انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xxiii

ر العلوم جلدم 16 جبکہ ترکی حکومت خطرے میں تھی نہایت مدبرانہ رہنمائی کرتے ہوئے ۱۸ ستمبر ۱۹۱۹ ء کو یہ کتاب تحریر فرمائی۔مختلف الخیال مسلمانوں کے اتحاد و اجتماع کے لئے آپ نے یہ رہنما اصول بیان فرمایا میرے نزدیک اس جلسہ کی بنیاد صرف یہ ہونی چاہئے کہ ایک مسلمان کہلانے والی سلطنت کو۔۔۔ہٹا دینا یا ریاستوں کی حیثیت دینا ایک ایسا فعل ہے جسے ہر ایک فرقہ جو مسلمان کہلاتا ہے نا پسند کرتا ہے اور اس کا خیال بھی اس پر گراں گزرتا ہے"۔ترک سلطنت اور مرکز اسلام حجاز کے متعلق نہایت متوازن رہنمائی کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: عرب کی غیرت قومی جوش مار رہی ہے اور اس کی حریت کی رگ پھڑک رہی ہے۔تیرہ سو سال کے بعد اب وہ پھر اپنی چار دیواری کا آپ حاکم بنا ہے اور اپنے حسن انتظام اور عدل و انصاف سے اس نے اپنے حق کو ثابت کر دیا ہے اس کے متعلق کوئی نئی تجویز نہ کامیاب ہو سکتی ہے نہ کوئی معقول انسان اس کو قبول کر سکتا ہے"۔ترکی کی بہتری کے لئے آپ نے ایک یہ مشورہ بھی دیا کہ : صرف جلسوں اور لیکچروں سے کام نہیں چل سکتا نہ روپیہ جمع کر کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کے شائع کرنے سے۔۔۔۔بلکہ ایک باقاعدہ جدوجہد سے جو دنیا کے تمام ممالک میں اس امر کے انجام دینے کے لئے کی جاوے۔یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور لوگ ہر ایک بات کے لئے دلیل طلب کرتے ہیں۔۔۔۔پس اس مشکل کام کو پورا کرنے کے لئے باقاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔۔۔۔بے فائدہ کام دانا کا کام نہیں" ترکوں یا اسلام کے خلاف بغض و تعصب کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: " آباء و اجداد سے ان کے دل میں اسلام کی نسبت اس قدر بد ظنیاں بٹھائی گئی ہیں کہ وہ اسلام کو ایک عام مذہب کے طور پر خیال نہیں کرتے بلکہ ایک ایسی تعلیم خیال کرتے ہیں جو انسان کو انسانیت سے نکال کر جانور اور وہ بھی وحشی جانور بنا دیتی ہے۔۔۔۔اسلام کے سوا دوسرے مذاہب سے وہ ڈرتے نہیں۔۔۔۔مگر قابل نفرت سمجھتے ہیں۔مگر اسلام سے وہ خوف کھاتے ہیں اس کی ترقی کو تہذیب و شائستگی کے رستہ میں روک ہی نہیں خیال کرتے بلکہ خود