انوارالعلوم (جلد 4) — Page 199
انوار العلوم جلد ۴ 199 حقیقته الرؤيا سے اس کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ سے الہام پاتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا نہیں تو پھر جیسا کہ اس کے الہامات میں قبل از وقت بتا دیا جاتا ہے۔اس کے دشمنوں سے وہ معاملہ کیوں کیا جاتا ہے جو کسی طبعی غلطی کا نتیجہ نہیں ہو تا بلکہ اسی صورت میں وہ اس ثمرہ کا مستحق ہوتے ہیں جب کہ یہ شخص خدا تعالی کا پیارا ہو۔غرض یہ علامات اور شرائط ہیں جو مأمور من اللہ کے الہامات کو پر کھنے کے لئے ہیں۔خاتمہ اور اگر کوئی عقل و فکر سے کام لے۔ضد اور دشمنی کو ترک کر دے تو ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے۔لیکن بہت سے لوگ ہیں جو ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ باتیں میں نے مختصر طور پر آپ لوگوں کو بتادی ہیں۔کیونکہ تفصیل کا یہ موقع نہیں تاکہ ان لوگوں کے اعتراضات کے جواب دے سکو۔اور ان باتوں کے نہ جاننے کی وجہ سے جو ٹھوکریں لگ سکتی ہیں ان سے بچ سکو۔خدا تعالیٰ آپ کو ان کے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔