انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 188

انوار العلوم جلد م I^^ حقیقته الرؤيا شروع کی تو مجھے خوب یاد ہے گو میں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا مگر آپ کی ایسی خوبصورت اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی کہ میں اول سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا۔حالا نکہ ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔تو ایسی خواب جس میں زائد علم دیا جائے وہ ضرور رحمانی ہوتی ہے۔اور میں نے خود اس کا کئی بار تجربہ کیا ہے کہ رویا میں اللہ تعالی کی طرف سے نیا علم دیا جاتا ہے۔چنانچہ جب خواجہ صاحب نے ہندوستان میں ایسی طرز پر تبلیغ شروع کی جس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہ لیتے تو مجھے بہت برا معلوم ہوا۔یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہماری یونسی مخالفت شروع کر دی گئی ہے نہ کچھ سوچا نہ سمجھا ہے۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس وقت پہلے میں نے استخارہ کیا کہ الہی ! اگر یہی طریق تبلیغ اچھا ہے تو مجھے بھی اس پر انشراح کر دے۔بار بار دعا کرنے پر رویا میں میری زبان پر ایک اردو شعر جاری ہوا۔شعر تو یاد نہیں رہا مگر اس کا مطلب یاد ہے جو یہ ہے کہ جن کے پاس قاق نہیں ہوتا وہ نان ہی کو قاق سمجھ لیتے ہیں۔اس لفظ قاق کے متعلق میں نے کئی لوگوں سے دریافت کیا کہ اس کے کیا معنی ہیں لیکن وہ کچھ نہ بتا سکے۔پھر کئی لغت کی کتابوں کو دیکھا وہاں سے بھی نہ ملا۔آخر بڑی تلاش کے بعد ایک لغت کی کتاب سے معلوم ہوا کہ قاق کیک کو کہتے ہیں اور یہ عربی لفظ ہے تو اس قسم کے نئے الفاظ کا بتایا جانا ثبوت ہو تا ہے اس بات کا کہ یہ خواب خدا کی طرف سے ہے۔کوئی کہے کیا شیطان نئے نئے لفظ نہیں جانتا۔بے شک جانتا ہے۔مگر شیطان کا معاملہ ہر ایک انسان سے اس کی سمجھ کے مطابق ہوتا ہے اور خدا تعالٰی نے اسے اقتدار نہیں دیا۔اگر اسے بھی اقتدار حاصل ہو جاتا تو پھر مؤمن کے لئے امن کی جاکون سی رہتی اور ایمان کی سلامتی کا ذریعہ کیا رہ جاتا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے غیر زبانوں کے الہاموں کے متعلق لکھا ہے کہ چونکہ یہ غیر زبان میں ہیں جو میں نہیں جانتا اس لئے ان کے بچے ہونے کا یہی ثبوت ہے۔پچھلے ہی دنوں کی بات ہے کہ دوپہر کو میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا کہ غنودگی آئی اور یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے لَوْلَا النَّبضُ لَقُضِ الْحَيْضُ اور معلوم ہوا کہ یہ پیغامیوں کے متعلق ہیں۔مجھے حبض کے معنی معلوم نہ تھے۔بعض لغت کی کتب میں بھی یہ لفظ نہ ملا۔آخر بڑی کتب لغت میں یہ لفظ ملا۔اور طرفہ یہ کہ ان میں ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ لفظ نبض کے ساتھ مل کر بہت استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ عربی کا محاور ہے کہ مَا بِهِ حَيْضُ وَلَا نَبْضُ اور حبض کے معنی حرکت کے ہیں۔خصوصا دل کی حرکت کے تیز ہو کر پھر ٹھر جانے کے۔پس اس