انوارالعلوم (جلد 4) — Page 170
ار العلوم جلد قیاس کیوں نہ پورا ہو۔وہ تو انسان کی نسبت بہت ادھر ادھر پھرنے والا ہے۔اور اس فن میں زیادہ تجربہ کار ہے وہ کبھی ثناء اللہ کے پاس جاتا ہے کبھی محمد حسین کے پاس۔کبھی اور اسی قسم کے لوگوں کے پاس۔اس طرح قیاس لگانے کا اسے زیادہ ملکہ حاصل ہوتا ہے۔اس لئے اس کی بتائی ہوئی کوئی نہ کوئی بات پوری بھی ہو جاتی ہے۔اب ایک اور سوال ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب شیطانی اور رحمانی خواب میں فرق شیطان کی بتائی ہوئی بعض باتیں پوری ہو جاتی ہیں تو تو پھر کیونکر مانا جائے کہ مؤمنوں کی خواہیں قیاسی نہیں ہوتیں۔وہ بھی قیاسی ہی ہوتی ہیں۔اس کا کی جواب یہ ہے کہ جو شیطانی خوابیں ہوتی ہیں ان کے دو ایسے نشان ہیں جن سے قطعی طور پر ان کا شیطانی ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ایک تو یہ کہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ خواہیں اور کشوف انہی امور کے متعلق ہوتے ہیں جن کے کچھ نہ کچھ آثار ظاہر ہو چکے ہوتے ہیں۔لیکن جو رحمانی خواہیں اور کشوف ہوتے ہیں وہ اس وقت دکھائے جاتے ہیں جب کہ آثار و علامات کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔اس کے متعلق یہی مثال دیکھ لو کہ اس علم کے مدعیوں نے قیصر کے معزول ہونے کی خواب اس وقت دیکھ کر پیشگوئی کی جب لڑائی شروع ہو چکی تھی۔مگر حضرت مرزا صاحب نے زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار" (براہین احمدیہ حصہ پنجم جلد ۲۱ صفحه (۱۵۲) کی پیشگوئی اس وقت کی جب کہ لڑائی کا کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔تو یہ ایک بہت بڑا فرق ہوتا ہے رحمانی اور شیطانی خواب میں۔شیطانی خواہیں ان امور کے متعلق ہوتی ہیں جن کے آثار ظاہر ہو چکے ہوتے ہیں۔لیکن رحمانی خواہیں ان امور کے متعلق ہوتی ہیں جن کے ان کے دکھانے کے وقت کوئی آثار نہیں ہوتے بلکہ ان کے خلاف لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں بتایا گیا تھا کہ نہر سویز نکالی جائے گی چانچہ سورہ رحمن میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيْنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِيْنِ ، فَبِأَيِّ الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللولو والمَرْجَانُ (الرحمن : ۲۰ تا ۲۳) کہ اے انسانو اور جنوا یعنی بڑے اور چھوٹے لوگو سنو! خدا نے اس وقت دو سمندر ایسے چھوڑے ہوئے ہیں جو ایک وقت آئے گا کہ آپس میں مل جائیں گے۔یعنی ان کے درمیان کی خشکی دور ہو جائے گی اور دونوں سمندروں کے پانی