انوارالعلوم (جلد 4) — Page 153
العلوم جلد ) ۱۵۳ حقیقته الرؤيا ہے۔ہر مذہب وملت کے انسان کے دماغ میں یہ بات پائی جاتی ہے اور اگر وہ کوشش کرے تو اس سے کام لے سکتا ہے۔یہ بات بھی اگر کچی ہو جائے تو تمام مذاہب باطل ہو جاتے ہیں۔کیونکہ انبیاء کو تو اس لئے قبول کیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے خالق اور مالک کی طرف سے آتے اور اس کی باتیں ہمیں سناتے ہیں۔لیکن اگر وہ اپنے پاس سے ہی سناتے ہیں تو ان کی باتیں ماننے کی کیا ضرورت ہے۔کیوں نہ خود ہی قوت حاصل کر لی جائے جو انہوں نے اپنے آپ میں پیدا کر لی ہوئی ہے۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کے خیال کو بھی درست مان لیا جائے تو بھی مذاہب کی بیخ دین اکھڑ جاتی ہے۔یہ لوگ بظاہر تو اس بات کے مدعی ہیں کہ وحی الہام ، رؤیا اور کشف واقعہ میں درست ہیں اور خدا کی طرف سے ہوتے ہیں۔مگر وہ اس دروازہ کو اتنا وسیع کرتے ہیں کہ جس سے الہام اور وحی پانے والوں سے بھی ایمان اٹھ جاتا ہے۔کیونکہ اگر ایک شخص آکر کہے کہ میرے پاس بڑا مال ہے مگر نکلے اس کے پاس صرف ایک دھیلا تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس قسم کا دعوی کرنے والے سارے ایسے ہی ہوتے ہیں۔تو ان کی بات ماننے سے بچے مدعیانِ الہام اور وحی کی بھی کچھ قدر و منزلت نہیں رہتی۔چوتھی قسم کے لوگ وہ ہیں جو مدعی ہیں کہ تمام انبیاء کو خدا کی طرف سے وحی اور الہام ہوتے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی وہ ایسی قیود لگا دیتے ہیں کہ جن کو درست مان لینے پر تمام نبیوں کے الہام باطل ہو جاتے ہیں۔اور جہاں تیسرا گروہ اس قدر وسعت اختیار کرتا ہے کہ جس کو ماننے کی وجہ سے سب نبی بے قدر اور بے حقیقت ہو جاتے ہیں وہاں یہ چوتھا گر وہ ایسی تنگی اختیار کرتا ہے کہ جسے مان لینے کی وجہ سے کسی نبی کی بھی نبوت اور رسالت ثابت نہیں ہو سکتی۔اس میں ایک تو غیر احمدی لوگ شامل ہیں اور دو سرے وہ جو غیر مبائعین کہلاتے ہیں۔تو یہ چار گروہ ہیں جو چار قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔ان میں مخالفین الہام کے دعاوی سے اول میں اس گروہ کو لیتا ہوں جو یہ کہتا ہے کہ انسان کے دماغ کی بناوٹ ہی اس قسم کی ہے کہ بعض خاص قواعد کی پابندی سے بعض غیب کی باتیں اسے معلوم ہو سکتی ہیں اور ان کے دلائل سناتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ در حقیقت انسان کا دماغ اس طرز پر بنا ہوا ہے کہ انسان کے سونے کی حالت میں بھی وہ کام میں لگا رہتا ہے۔دن کو انسان چونکہ اور کاموں میں لگا رہتا ہے اس لئے جو کچھ اس کا دماغ سوچتا ہے اس کا نظارہ یا الفاظ