انوارالعلوم (جلد 4) — Page xviii
تعارف که العلوم جلد ۴ اسلام پر بر ایک بد نما دھبہ ہے اور اس کے دوستوں کے لئے بھی ایک سر چکرا دینے والا سوال ہے اور بہت کم ہیں جنہوں نے اس زمانہ کی تاریخ کی دلدل سے صحیح و سلامت پار نکلنا چاہا ہو اور وہ اپنے مدعا میں کامیاب ہو سکے ہوں اس لئے میں نے یہی پسند کیا کہ آج آپ لوگوں کے سامنے اس کے متعلق کچھ بیان کروں"۔حضور کی اس نہایت گرانقدر قیمتی تحقیق کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ : یہ خیال کہ اسلام میں فتنوں کے موجب بعض بڑے بڑے صحابہ ہی تھے بالکل غلط ہے" حضور نے اپنے اس مقالہ میں حضرت عثمان کے ابتدائی حالات، حضرت عثمان کا مرتبہ رسول کریم کی نظر میں فتنہ کہاں سے پیدا ہوا خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا، صحابہ کی نسبت بد گمانی بلاوجہ ہے پر بحث کرتے ہوئے فتنہ کی وجوہ اور حضرت عثمان کے زمانہ میں اس کے شروع ہونے والے اسباب و عوامل بیان فرمائے۔فتنہ کے بانی مبانی عبداللہ بن سبا کے حالات اور اس ضمن میں کوفہ بصرہ، شام اور وہاں کے مسلمانوں کے عمومی مزاج پر بھی روشنی ڈالی۔حضرت عثمان پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ایسے امراء مقرر کر دیے تھے جو اس فتنہ کا باعث بن رہے تھے۔حضور اس کے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے فرماتے ہیں: غرض جو لوگ تحقیق کے لئے بھیجے گئے تھے وہ نہایت عظیم الشان اور بے تعلق لوگ تھے اور ان کی تحقیق پر کسی شخص کو اعتراض کی گنجائش حاصل نہیں پس ان تینوں صحابہ کا مع ان دیگر آدمیوں کے جو دوسرے بلاد میں بھیجے گئے تھے متفقہ فیصلہ دیتا کہ ملک میں بالکل امن و امان ہے، ظلم و تعدی کا نام و نشان نہیں، حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں۔---- ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فساد چند شریر النفس آدمیوں کی شرارت و عبد اللہ بن سبا کی انگیخت کا نتیجہ تھا۔ورنہ حضرت عثمان اور ان کے نواب ہر قسم کے اعتراضات سے پاک تھے “۔حضرت عثمان اپنی طبیعت کے مطابق نرمی اور رحم دلی کی طرف مائل رہے۔مفسدوں کی