انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xvii

فرمايا - نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ کہ مؤمن کی نیت اس کے عمل سے اچھی ہے کیونکہ عمل صرف دیکھنے والوں پر اثر ڈال سکتا ہے جو بہت محدود ہے مگر قلب کا اثر دور دور تک پہنچتا ہے۔آپ نے فرمایا : "مؤمن رہی ہے جو اپنے ہر قسم کے خیالات اور ارادوں پر پوری طرح قبضہ اور اختیار رکھتا ہے۔اپنے دل میں نیک اور اچھے خیال کو آنے دیتا ہے اور بد کو روک دیتا ہے اور یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو دل خود بخود قابو میں آجاتا ہے۔" پس ہماری جماعت کے لوگوں کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے خیالات اور ارادوں کی اصلاح کریں ، اپنے قلوب کی اصلاح کریں۔اگر ہمارے قلوب صاف ہوں گے اور اصلاح شدہ ہوں گے تو ہمارا عقائد پر ایسا یقین اور ثبات ہو گا کہ ہم کہیں بھی متزلزل نہیں ہوں گے۔اس خطاب کو آپ نے اس نصیحت پر ختم فرمایا کہ ”سب سے پہلے تو اپنے قلوب اور اعمال کی اصلاح کرو اور پھر اپنی ذمہ داریوں کو دیکھو۔اگر تم ان ذمہ داریوں کو پورے طور پر ادا کرو تو یقیناً سمجھ لو کہ تمہارے لئے انعامات کے حصول کے دروازے کھل گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق دے کہ اسلام اور سلسلہ کی ترقی کے لئے آپ بہت کچھ کر سکیں۔" اسلام میں اختلافات کا آغاز۔تاریخی اہمیت کی یہ تقریر ۲۶ فروری ۱۹۱۹ء کو اسلامیہ کالج لاہور کی مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی کے ایک غیر معمولی اجلاس میں سید عبد القادر صاحب پروفیسر تاریخ کی صدارت میں ہوئی۔اس مضمون کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: اسلام میں تفرقہ کی بنیاد رسول کریم ﷺ کی وفات کے پندرہ سال بعد پڑی ہے اور اس وقت کے بعد مسلمانوں میں شقاق کا شگاف وسیع ہی ہو تا چلا گیا اور اسی زمانہ کی تاریخ نہایت تاریک پردوں میں چھپی ہوئی ہے اور اسلام کے دشمنوں کے نزدیک