انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 107

انوار العلوم جلدم۔علم حاصل کرو آپ لوگوں کی خاطر تواضع میں لگے رہتے۔اس کا انہیں کوئی انعام نہیں دیا جاتا بلکہ محض محبت اور اخلاص سے کام کرتے ہیں اس لئے تمہیں ان کی قدر کرنی چاہئے۔اس کے بعد میں یہاں کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ یہ لوگ جو دور دراز سے کرایہ خرچ کر کے اپنے کاروبار کو چھوڑ کر یہاں آتے ہیں یہ کوئی کھانے پینے کی خاطر نہیں آتے۔کیا وہ اسی کرایہ کا جسے خرچ کر کے یہاں آتے ہیں گھر میں اچھے سے اچھا کھانا نہیں کھا سکتے مگر وہ یہاں خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں۔پس طرفین کو چاہئے کہ ایک دوسرے کا ادب اور لحاظ کریں۔باہر سے آنے والے احباب یہاں کے رہنے والوں کی دقتیں اور مجبوریاں مد نظر رکھیں ہم انہیں کسی انتظام کیلئے مقرر کرتے ہیں اور وہ مجبور ہوتے ہیں کہ جیسا انہیں حکم دیا گیا ہے اسی طرح کریں لیکن لوگ ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں کہ کیوں ہمیں حسب منشاء ملنے کا موقع نہ دیا گیا۔ہاں اگر کوئی ان سے سختی سے کلام کرتا یا درشتی سے بڑھتا ہے تو یہ اس کی نادانی ہے۔وہ تو ہر روز ملتا ہے اس لئے اسے اس جذبہ کا احساس نہیں ہے جو کچھ دیر کے بعد ملنے والوں کے دل میں ہوتا ہے۔اسے خیال کرنا چاہئے کہ ایک بھائی جو دوسرے بھائی کو کچھ عرصہ کے بعد ملتا ہے وہ اسے چمٹ جاتا ہے لیکن جو اس کے پاس رہتا ہے وہ ایسا نہیں کرتا۔اس سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے محبت کم ہوتی ہے بلکہ یہ ایک فطرتی بات ہے کہ دیر سے ملنے والے کے دل میں بہت جوش ہوتا ہے تو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔یہ باتیں جو اس وقت میں نے بتائی ہیں اگر ان کو غور سے سنا اور ان کے مطابق عمل کیا جائے تو فتنے بہت کم ہو جائیں اس لئے ان کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری اور فائدہ بخش ہے ورنہ بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ایک پڑتا ہے۔ایک شخص اسی بات کی وجہ سے مرتد ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود " نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں بیٹھا کرتے تھے اور لوگ کوشش کرتے تھے کہ جس قدر جلدی ہوسکے ہم آپ کے پاس پہنچیں تاکہ قریب جگہ حاصل کر سکیں۔ایک دن آپ نماز کے بعد بیٹھے اور اس شخص کے پاس سے کوئی شخص جلدی سے گذرا اور اس کی کہنی اسے لگ گئی تو اسی پر اسے ابتلاء آگیا۔گو یہ معمولی سی بات تھی لیکن ایسی باتوں کے متعلق بہت خیال رکھنا چاہئے تم لوگ اگر ان باتوں کو مد نظر رکھو گے تو بہت بڑا فائدہ حاصل کرو گے۔پس اپنے جوشوں اور جذبات کو دباؤ اور نرم ہو جاؤ۔جب انسان نرم ہو جاتا ہے تو پھر اس پر کوئی حملہ نہیں کرتا۔مجھے یاد ہے بچپن میں ہم نے ایک کشتی رکھی ہوئی تھی، ارد گرد کے گاؤں کے