انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 103

انوار العلوم جلدم ۱۰۳ علم حاصل کرو اوقات کو دین کی باتیں سننے میں لگاؤ۔اگر تمہیں جلسہ میں بیٹھے ہوئے لیکچرار کی آواز نہ بھی سنائی دے تو پرواہ نہ کرو۔انتظام کا قائم رکھنا بھی ایک نہایت ضروری اور لازمی امر ہے۔اس طرح تمہیں کم از کم یہی مشق ہو جائے گی کہ دین کیلئے اگر تمہیں بیکار بھی بیٹھنا پڑے تو بھی بیٹھ سکو گے۔یہ بھی ایک قربانی ہے کیونکہ اگر صرف مزے کیلئے لیکچر سنا جائے تو اس میں نفس بھی شامل ہو جاتا ہے۔پس اگر کسی کو آواز نہ آئے تو بھی وہ بیٹھا رہے اور اپنے دل میں اللہ تعالی کا ذکر کرتا رہے۔کسی گذشته جلسہ کے موقع پر میں نے بتایا تھا کہ ایک دفعہ مسجد میں رسول کریم ای نے کچھ لوگوں کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ عبداللہ بن مسعود جو گلی میں جارہے تھے آنحضرت ا کی آواز سن کر وہیں بیٹھ گئے۔اطاعت اور فرمانبرداری یہ ہوتی ہے۔ایک اور دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت اللہ کی مجلس میں تین شخص آئے ، مجلس میں جگہ نہ تھی، ان میں سے ایک تو واپس چلا گیا ایک پیچھے ہی بیٹھ گیا اور ایک نے کوشش کر کے آگے جگہ حاصل کرلی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس مجلس میں تین شخص آئے تھے، ان میں سے ایک نے جب دیکھا کہ اس تک میری آواز نہیں پہنچتی تو وہ چلا گیا، دوسرے نے جانے سے شرم کی اور بیٹھ گیا، تیسرے نے کوشش کی اور گھس کر آگے آبیٹھا۔جو چلا گیا خدا نے اس سے منہ پھیر لیا اور جو جانے سے شرما گیا خدا نے بھی اس کے گناہوں سے چشم پوشی کی اور جو کوشش کر کے آگے آبیٹھا خدا نے بھی اس کو اپنے قرب میں جگہ دی۔پس اگر تم میں سے بھی کسی کو آواز نہ آئے تو اس کیلئے یہ جائز نہیں کہ اُٹھ کر چلا جائے بلکہ وہ خود اپنے نفس کو وعظ کرے کہ اے نفس! تیرا ہی کوئی گناہ ہو گا جس کی وجہ سے مجھے پیچھے جگہ ملی ہے میں جو آگے نہیں بیٹھ سکا تو یہ میری ہی سستی ہے جس کی یہ سزا مجھے مل رہی ہے کہ آواز نہیں آتی۔جب وہ اپنے نفس کو یہ وعظ کرے گا تو دوسرے موقع پر وہ پیچھے نہیں رہے گا بلکہ سٹیج کے پاس ہی بیٹھنے کی کوشش کرے گا۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ اپنے اوقات کو ضائع نہ ہونے دیں۔آپ میں سے بہت لوگ ہیں جنہیں سال میں ایک ہی دفعہ آنے کا موقع ملتا ہے اس لئے انہیں سوائے کسی اشتر ضرورت کے جلسہ سے نہیں اٹھنا چاہئے۔یہ بات میں اس لئے بھی کہتا ہوں کہ کئی ایسے دوست ہوتے ہیں جو پہلی بار ہی یہاں آتے ہیں اور بعض کے حافظے اس قسم کے ہوتے ہیں