انوارالعلوم (جلد 4) — Page 95
انوار العلوم جلد ۴ ۹۵ علم حاصل کرو اکھڑ گیا ہے اور نہ ہی اس امر کی علامت ہے کہ ہمارے اندر کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔اس سے میری یہ مراد نہیں ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں کسی قسم کی بھی کمزوری نہیں بلکہ ہے کہ ہمارے اندر کوئی ایسی کمزوری نہیں ہے جس کے سبب ہم دشمن کے مقابلہ میں مٹ جائیں یا فنا ہو جائیں۔ہاں یہ بات ہے کہ دشمن نے سمجھ لیا ہے کہ اگر یہ جماعت اور زیادہ بڑھ گئی تو اس کا مقابلہ نہیں ہو سکے گا۔ابتداء میں تو ہمارا اس لئے مقابلہ اور مخالفت کی گئی تھی کہ اس سلسلہ کا قدم ہی نہ جمے اور پہلے ہی اکھیڑ دیا جائے مگر جب دشمن اس وقت کچھ نہ کر سکے تو وہ اپنے دلوں کو اس طرح تسلی دے کر بیٹھ گئے کہ کیا ہوا اگر اس سلسلہ کے قدم جم گئے ہیں جس طرح اور بیسیوں فرقے ہیں اسی طرح کا ایک یہ بھی ہے اوروں نے ہمارا کیا بگاڑ لیا ہے کہ یہ کچھ بگاڑ لے گا۔چلو جانے دو۔مگر اب انہوں نے دیکھا ہے کہ یہ تو ایک ایسا فرقہ ہے کہ اگر اس کا مقابلہ نہ کیا گیا تو یہ ہمیں کھا جائے گا اور ہمارا کچھ بھی باقی نہ رہنے دے گا اب اس کو آگے نہ بڑھنے دو۔یہ ہے وہ بات جس کی وجہ سے ہمارے مخالفین نے اب ہمارے خلاف زور لگانا شروع کیا ہے اور یہی وجہ ان کے جوش دکھانے کی ہے۔پھر کہتے ہیں دیوانہ کو دیکھ کر دیوانہ شور مچانے لگ جاتا ہے۔ان دنوں چونکہ ان لوگوں نے بھی جو غیر مبائع کہلاتے ہیں ہمارے خلاف شور مچارکھا ہے اور ان کی طرف سے تمام ہندوستان میں ہمارے خلاف آگ بھڑکائی جارہی ہے اور یہ لوگ یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ جہاں بھی ہمارے مبلغ گئے ہیں وہاں انہوں نے بھی اپنے آدمی بھیجے ہیں۔بمبئی ، مدراس، حیدر آباد دکن غرضیکہ جہاں جہاں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچانے کی کوشش کی ہے وہاں ہی انہوں نے آپ کا نام مٹانے کیلئے زور لگایا ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم گھر کے بھیدی ہیں اس لئے لنکا ڈھائیں گے ہمارا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔پس ان کے شور و شر کو دیکھ کر بھی مولویوں اور ملانوں میں پھر نئے سرے سے جوش پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے ایک بار اور حملہ کرنے کی کوشش کی ہے اور یہاں تک جرات دکھلائی ہے کہ قادیان اگر جلسہ کیا ہے۔بعض دوستوں کو یہ بات ناپسند ہوئی لیکن میں نے کہا کہ اس میں ہمارا کیا حرج ہے۔شیر شکار کے پاس جائے یا شکار شیر کے پاس آجائے ایک ہی بات ہے۔ہم تو لڑائی اور فساد کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور ایسی باتوں سے الگ رہتے ہیں جن کا نتیجه نقض امن ہو ورنہ تبلیغ اسلام کے سوا ہمارا کام ہی کیا ہے۔ہم تو دور دراز ملکوں میں