انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 58

رالعلوم جلد ۴ ۵۸ ربوبیت باری تو کر وہ کہتا ہے سبحان اللہ کیسی اعلیٰ کتاب ہمیں دی گئی جس نے پہلے ہی بتا دیا ہوا ہے کہ کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں نبی نہ آیا ہو اور ایسا ہی ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ خدا رب العلمین ہے۔ایک قوم کا رب نہیں ہے۔وہ ہر ایک انسان کو خواہ وہ کافر ہو یا مؤمن ، افریقہ میں ہویا امریکہ میں ایشیا میں ہو یا یورپ میں خوراک پہنچاتا ہے۔آنکھیں اور دیگر اعضاء دیتا ہے۔اس کا سورج سب کو برابر روشنی پہنچاتا ہے۔اس کا مینہ سب جگہ برستا ہے۔اس کا پانی سب کی پیاس بجھاتا ہے پھر کیونکر ممکن ہے جو خدا جسمانی طور پر سب کی ربوبیت کرتا ہے وہ روحانی طور پر ایسا بخیل ہو کہ کسی ایک قوم اور ملک میں تو رسول اور نبی اور او تار بھیجے مگر دوسرے میں نہ بھیجے۔اگر یہ مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی انسانوں کو خدا نے پیدا ہی کیوں کیا تھا۔کیوں نہ انہیں گھوڑے گدھے بنا دیا کیونکہ جب انسان پیدا کیا تھا تو یہ بھی ضروری تھا کہ اس کی روحانی ضروریات کے سامان بھی پیدا کرتا اور جس طرح اس نے آنکھیں دے کر ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے سورج پیدا کیا تھا اسی طرح جب اس نے دماغ دیا تھا تو اس کے لئے مذہب بھی بتا تا۔ہر قوم میں نبی قرآن کریم کی تعلیم پاتی ہے اور واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ تمام دنیا میں نبی آئے ہیں (الرعد: ۸ اور اس وقت تک کہ ایک ایسا مذ ہب نہ آیا جو تمام جہان کو تعلیم دے سکتا تھا۔مختلف ممالک اور اقوام میں نبی آتے رہے کیوں؟ اس لئے کہ ہر قوم کے نبی صرف اپنی ہی قوم کے لئے آتے تھے۔چنانچہ بنی اسرائیل کے انبیاء صرف اپنی ہی قوم کے لئے آئے اور ان کے سپرد اپنی ہی قوم کی تربیت کی گئی۔جیسا کہ بائیبل سے پتہ لگتا ہے کہ جب حضرت مسیح کے پاس ایک غیر قوم کی عورت نے آکر کہا کہ "اے خداوند ابن داؤد مجھ پر رحم کر " تو انہوں نے کہا کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا"۔پھر اس نے کہا "اے خداوند میری مدد کر " تو انہوں نے جواب دیا کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں"۔(متی باب ۱۵ آیت ۲۲ تا ۲۶ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء) یہاں انہوں نے اقرار کیا ہے کہ میں بنی اسرائیل کے سوا اور کسی کو ہدایت دینے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔اسی طرح دیگر اقوام میں بھی ایسی ایسی باتیں ملتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں جو نبی بھیجے گئے وہ صرف ان ہی کے لئے عد بكل قومِ هَادٍ