انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 46

العلوم جلد عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے طرح کرنا چاہئے اور خواہ کتنی ہی تھوڑی آمدنی ہو۔اس سے عورتوں کو ان کا حصہ دینا چاہئے۔پھر اس میں سے عورتیں خدا کی راہ میں دیا کریں اور اس بات کا ہرگز خیال نہ ہو کہ اس قلیل رقم سے کیا بنے گا۔خواہ ایک دمڑی دینے کی توفیق ہو تو وہی دے دی جائے۔اللہ تعالٰی اخلاص کو یہ دیکھتا ہے نہ مال کو۔اگر کسی کے پاس صرف ایک روٹی ہو اور وہ اس کا ایک چوتھائی حصہ بخدا کی راہ میں دے دے تو خدا کے حضور وہ ثواب کا ویسا ہی مستحق ہے جیسا کہ سو روپیہ رکھنے والا پچیس روپے دے کر۔اس لئے تھوڑے مال کا خیال نہ کرنا چاہئے۔ہاں نیت اور اخلاص کا خیال رکھنا چاہئے کہ خدا انہیں کو دیکھتا ہے اور انہیں کے مطابق اجر دیتا ہے۔پھر عورتوں کو چاہئے کہ تبلیغ کریں۔مرد تو عورتوں میں تبلیغ نہیں عورتوں میں تبلیغ کریں کر سکتے اس لئے یہ کام عورتوں کا ہی ہے۔انہیں چاہئے کہ غیر احمدی، ہندو، عیسائی وغیرہ عورتوں کو اسلام کی تعلیم بتا ئیں اور ایسی دلیلیں یاد رکھیں جو انہیں تبلیغ کرتے وقت کام آئیں۔خواہ عورت ان پڑھ ہو تو بھی موٹی باتیں اپنے خاوند ، باپ، بھائی سے سیکھ لے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض ان پڑھ احمدی دین سے ایسی واقعیت پیدا کر لیتے ہیں کہ غیر احمدی پڑھے ہوئے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ایک احمدی زمیندار جو بالکل ان پڑھ ہے اور یوں بھی سیدھا سادہ معلوم ہوتا ہے۔اس نے سنایا کہ میرے رشتہ دار مجھے ایک شیعہ مولوی کے پاس لے گئے کہ وہ مجھے سمجھائے۔اس نے مجھ سے پوچھا بتاؤ آنحضرت اللہ مسلمانوں کے کیا لگتے ہیں۔میں نے کہا باپ۔پھر اس نے پوچھا آنحضرت ا کی بیٹی مسلمانوں کی کیا لگتی ہے میں نے کہا بہن۔وہ کہنے گا اچھا مرزا صاحب نے جو سیدانی سے نکاح کیا ہے وہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔میں نے کہا حضرت علی نے تو رسول کریم کی خاص بیٹی سے نکاح کیا تھا۔اسے آپ کیا سمجھتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے تو نہ معلوم کتنی پشتوں کے بعد جاکر نکاح کیا ہے۔مولوی نے کہا حضرت علی تو ایک بزرگ انسان اور خدا کے پیارے تھے۔میں نے کہا حضرت مرزا صاحب کو ہم ان سے بھی بڑھ کر مانتے ہیں۔اس پر وہ لاجواب ہو گیا اور کہنے لگا جاتیری عقل ماری گئی ہے۔اسی قسم کی اور کئی ایک مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان سچائی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے تو پھر کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔سچائی ایک تلوار ہے جس کے ہاتھ میں ہوگی وہ دشمن کا سر اڑا دے گا۔اور اگر بچہ بھی مارے گا تو زخمی ضرور کر دے گا۔اسی طرح گو پڑھا ہوا انسان دشمن کے مقابلہ میں بڑا کام کر سکتا ہے۔مگر ان پڑھ بھی اگر دین سے واقفیت