انوارالعلوم (جلد 4) — Page 628
Ура تقدیرالی اس درجہ پر پہنچنے پر اس کے ہاتھ پاؤں آنکھ اور کان خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں اور یہی مقام ہے جہاں در حقیقت انسان تقدیر کی پوری حقیقت سے آگاہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس مقام پر یہ مجسم تقدیر ہو جاتا ہے اور تقدیر کو اگر پانی فرض کیا جائے تو یہ اس کو چلانے کے لئے بمنزلہ نہر کے ہوتا ہے اور اس مقام پر پہنچ کر خدا تعالیٰ کے راز میں شامل ہو جاتا ہے اور بندہ ہوتے ہوئے خدا کے نشان اس سے ظاہر ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے نادان اسے خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔پہلے تو یہ تھا کہ کبھی خدا سے مانگنے جاتا تھا مگر اب اس پر تقدیر ہی تقدیر جاری ہو جاتی ہے اور یہ وہ مقام ہے کہ اس پر پہنچنے والے انسان جو کچھ کرتے ہیں وہ ان سے خدا ہی کراتا ہے۔اسی لئے خدا نے رسول کریم ال کے متعلق فرمایا ہے۔وَمَا يُنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم: ۴-۵) کہ یہ جو کچھ کہتا ہے الہام ہے۔ای طرح حضرت صاحب نے رویا میں دیکھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ آؤ ہم نئی زمین اور نیا آسمان بنا ئیں۔نادان کہتے ہیں کہ یہ شرک کا کلمہ ہے مگر نہیں یہ مقام نبوت کی طرف اشارہ ہے۔حضرت صاحب نے پہلے مقام کا نام قمر اور دوسرے کا شمس رکھا ہے۔یعنی پہلا مقام تو یہ ہے کہ خدا کے ذریعہ انسان کا نور ظاہر ہوتا ہے۔اور دوسرا مقام یہ ہے کہ انسان کے ذریعہ خدا کا نور ظاہر ہوتا ہے۔یہی معنی آپ نے الہام یا شَمْسُ وَ يَا قَمَرُ کے کئے ہیں۔تو یہ مقام نبوت ہے اور اس مقام سے کوئی آگاہی نہیں دیا جاتا مگر بطور حال کے۔سوائے ان لوگوں کے کہ جن کو اللہ تعالیٰ مقام نبوت پر کھڑا کرے۔خدا تعالیٰ کا جلال انہی لوگوں کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے ہے اور یہ خدا تعالی کو دیکھنے کی کھڑکی ہوتے ہیں۔جو ان میں سے ہو کر خدا کو دیکھنا نہ چاہے وہ خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔درجہ - ہفتہ چھٹا مقام تو یہ تھا کہ جو خدا کو نہ دیکھے وہ اس شخص کو نہیں دیکھ سکتا اور ساتواں یہ ہے کہ جو اس مقام پر کھڑے ہونے والے انسان کو نہ دیکھے وہ خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔یعنی چھٹے مقام کے متعلق تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اس مقام پر کھڑا ہونے والے شخص کو شناخت نہ کرے مگر خدا کو کرے۔لیکن ساتواں مقام ایسا ہے کہ جو شخص اس پر کھڑے ہونے والے شخص کو شناخت نہیں کر سکتا وہ خدا کو بھی شناخت نہیں کر سکتا اور اسی کا نام کفر ہے۔کیونکہ جب یہ خدا کے ہاتھ اور پاؤں بن جاتے ہیں تو جہاں یہ جائیں گے وہیں خدا جائے گا۔