انوارالعلوم (جلد 4) — Page 622
والعلوم جلد ۴ تقدیراتی ہے جو مباح ہوں اور جن کے متعلق کوئی خاص حکم نازل نہ ہو چکا ہو اور وہ امور دنیوی اور جسمانی ہی ہوتے ہیں۔ان کاموں کو جب کوئی بندہ خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہے تو گویا وہ عرض کرتا ہے کہ الہی ! تو میرے یہ کام کر دے تاکہ میں دین کے کام کر سکوں۔تیری عبادت کر سکوں۔تیری راہ میں کوشش کر سکوں۔اس لئے یہ تو کل در اصل خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہوتا ہے مگر یہ مقام کبھی حاصل نہ ہو سکتا اگر تقدیر نہ ہوتی۔کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے کچھ کرنا ہی نہ ہو تا تو اس کے سپرد اپنے کام کر دینے کا ہی کیا مطلب؟ اور کسی شخص کو اگر تقدیر پر ایمان نہ ہو تو اسے بھی یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اگر وہ اس امر کو مانتا ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ بھی بندہ کے کاموں میں دخل دے سکتا ہے تو وہ اپنے کام اس کے سپرد کرے گا ہی کیوں ؟ پس تقدیر پر ایمان لانا تو گل کا درجہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دین کی خدمت میں ایسا لطف پاتا ہے کہ اپنی دنیاوی محنتیں کم کر دیتا ہے اور اپنے دنیاوی کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ وہ ان کو پورا کر دے گا اور اس کو دین کی خدمت کے لئے فارغ کر دے گا۔تو گل کے اس درجہ سے اوپر ایک اور درجہ ہے جس میں انسان اسباب معیشت کے حصول کے لئے محنت کرنا بالکل ہی چھوڑ دیتا ہے اور اپنا سارا وقت ہی اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کر دیتا ہے اور دنیا سے بکلی انقطاع کر لیتا ہے اور اس سے بھی اوپر ایک اور درجہ ہے کہ انسان اس درجہ میں بعض اوقات حوائج ضروریہ کا پورا کرنا ترک کر دیتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ مثلاً بھو کا مرجاتا ہے۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالٰی کے اذن کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔حضرت عبد القادر جیلانی لکھتے ہیں کہ مجھ پر بعض اوقات ایسی حالت آتی ہے کہ اس حالت میں میں نہیں کھا تا جب تک خدا تعالیٰ نہ کے تجھے میری ہی ذات کی قسم تو کھا تب میں کھاتا ہوں۔اور نہیں پیتا جب تک خدا تعالیٰ نہ کہے کہ تجھے میری ہی ذات کی قسم تو پی تب میں پیتا ہوں۔میں کپڑے نہیں پہنتا جب تک خدا تعالٰی نہ فرمائے کہ تجھے میری ہی ذات کی قسم تو کپڑے پہن لے تب میں کپڑے پہنتا ہوں۔ان کی عادت تھی کہ ایک ہزار دینار کا کپڑا پہنتے۔جس پر لوگ اعتراض کرتے تو کہتے نادان نہیں جانتے خدا تعالیٰ مجھے ایسا ہی کپڑا پنے کے لئے کہتا ہے تو میں کیا کروں؟ ایسے لوگوں کا خدا تعالیٰ متکفل ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ کا نام مقام فتا ہے۔آج کل کے نادان بزرگوں سے سن کر یہ تو جانتے ہیں کہ یہ بھی کوئی مقام ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا