انوارالعلوم (جلد 4) — Page 597
العلوم جلد ۴ ۵۹۷ تقدیر الهی اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔معراج کے ذکر میں رسول کریم ال فرماتے ہیں کہ پہلے آپ کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا۔اور پھر حضرت موسیٰ کے مشورہ سے آپ نے بار بار عرض کر کے پانچ نمازوں کا حکم لیا۔(مسلم کتاب الايمان باب الاسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموت وفرض الصلوات) اب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قبل از وقت معلوم تھا کہ اس طرح حضرت موسی کہیں گے اور اس طرح ان کے مشورہ سے محمد رسول اللہ ا مجھے سے تخفیف کی درخواست کریں گے۔پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں خدا تعالٰی نے پہلے پچاس نمازوں کا حکم دیا اور بعد میں ان کو پانچ سے بدل دیا۔کیوں نہ شروع میں ہی پانچ کا حکم دیا۔جو اس کا جواب ہے وہی ایسی پیشگوئیوں کے بدلنے کے متعلق ہمارا جواب ہے۔دوسری مثال اس کی وہ مشہور حدیث ہے جس میں اس شخص کا ذکر کیا گیا ہے جو سب کے آخر میں دوزخ میں رہ جاوے گا اور پھر اسے اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کے مطابق دوزخ سے نکال کر باہر کھڑا کر دے گا اور پھر وہ ایک درخت دیکھے گا اور اس کے نیچے کھڑا ہونے کی خواہش کرے گا اور خدا تعالیٰ اس سے یہ عہد لے کر کہ وہ پھر کچھ اور طلب نہیں کرے گا اسے اس جگہ کھڑا کر دے گا۔اور آخر ایک اور درخت کو دیکھ کر جو پہلے سے بھی زیادہ سرسبز ہو گا وہ پھر درخواست کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے عہد کو یاد دلا کر اور نیا عہد لے کر اس کے نیچے بھی کھڑا کر دے گا۔آخر وہ جنت میں جانے کی خواہش کرے گا اور اللہ تعالیٰ ہنس پڑے گا اور اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔(مسلم) کتاب الایمان باب اخر اهل النار خروجا) اس واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ہر ایک موقع کے مطابق خبر دیتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ آئندہ پھر اور خواہش نہیں کرے گا۔اس سے یہی مفہوم سمجھا جاتا تھا کہ وہ اسے جنت میں داخل نہیں کرنا چاہتا تھا۔حالانکہ یہ غلط ہے۔اللہ تعالٰی اسے جنت میں داخل کرنا چاہتا تھا اور پھر اسے آہستہ آہستہ جنت کی طرف لے جانا اسی اعتراض کے نیچے آجاتا ہے کہ کیوں اس نے اسے ایک دفعہ ہی جنت میں داخل نہ کر دیا اور جو اس کا جواب ہو گا وہی اس قسم کی پیشگوئیوں کے بدلنے کا بھی جواب ہے۔آخر میں میں پھر یہی بات کہوں گا کہ پیشگوئی محض اظہار تقدیر کا نام ہے اور یہ سب مسلمانوں کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ تقدیر مل جاتی ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ تقدیر کو چونکہ ظاہر کر دیا گیا ہے اس لئے تقدیر کے ملنے سے جو فائدہ انسان بصورت دیگر اٹھا سکتا ہے اس سے اسے۔