انوارالعلوم (جلد 4) — Page 33
انوار العلوم جلد ۴ سمسم عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے دیسی ہی ضرورت ہے جیسی مردوں کو۔تارہ سمجھیں کہ اسلام کیا ہے کیونکہ جب کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس کے حاصل کرنے کے طریق سیکھتا ہے اور جب اس کی حقیقت سمجھتا ہے تو اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جیسے مردوں کا حق ہے کہ وہ دین کو حاصل کریں ویسے ہی عورتوں کا بھی حق ہے کیونکہ مذہب کے احکام کا توڑنا جیسے مردوں کو نقصان دیتا ہے ویسے ہی عورتوں کو بھی دیتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح دین نہ سیکھیں۔دیکھو اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ مذہب کا کیا فائدہ ہے تو وہ خدا کو مانے گا اور اس کے احکام کی پابندی کرے گا لیکن اگر اس کو پتہ ہی نہ ہو تو پھر اسے کیا ضرورت ہے کہ خدا کو مانے۔اس کے سے تو بہتر ہے کہ نہ مانے۔پھر جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو کہ رسولوں کے ماننے نہ ماننے میں کیا فائدہ یا نقصان ہے تو وہ کیوں مانے گا۔پس ان باتوں کے فائدہ اور حقیقت سے آگاہ ہونا ضروری ہے اور جس طرح مرد دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اسی طرح عورتوں کو کرنی چاہئیے۔قرآن کریم میں دو پار سا عورتوں کا ذکر آتا ہے۔جن میں متقی عورتوں کا ذکر قرآن میں سے ایک فرعون کی بیوی ہے۔فرعون کو تو توفیق نہ ملی لیکن اس کی عورت نے تقویٰ اختیار کیا اور اس نے مذہب کی ضرورت کو سمجھا اور موسیٰ پر ایمان لائی۔اللہ تعالی نے اس کا ذکر قرآن کریم میں بطور مثال کے کیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ اس کتاب میں جو ہمیشہ کے لئے ہے اس کا ذکر آیا جس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ جو فرائض مذہب کے متعلق مردوں کے ہیں وہی عورتوں کے بھی ہیں۔دوسری مثال مریم کی ہے۔وہ حضرت عیسی کی والدہ تھیں اس زمانہ میں گمراہی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی انہوں نے ایسی پر ہیز گاری دکھائی کہ ان کے بیٹے نے نبوت حاصل کرلی۔دنیا پر حضرت مسیح کا بڑا احسان ہے لیکن حضرت مریم کا بھی بڑا احسان ہے کیونکہ ان کی تربیت سے ایک ایسا انسان بنا جس نے دنیا پر بڑا احسان کیا۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ بڑی متقی اور پر ہیز گار عورت تھیں۔ان کے بچے نے ان سے تقویٰ سیکھا۔سو دیکھو قرآن کریم میں جہاں حضرت مسیح کا ذکر ہے ساتھ ہی حضرت مریم کا ذکر بھی موجود ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے آنحضرت ﷺ کے زمانہ اسلام میں عورتوں کی خدمات میں جب ظلمت کمال کو پہنچی ہوئی تھی عورتوں نے دین