انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 580

انوار العلوم جلدم ۵۸۰ جذب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اسباب بھی استعمال کراتا ہے۔اسباب تقدیر کے راستہ میں نہ روک ہو سکتے ہیں اور نہ ہوتے ہیں۔لیکن اس کی کمزوری اور بے بسی جاذب رحمت ہو جاتی ہے۔دوم۔اسباب سے کام لینے کا اس لئے بھی حکم ہے کہ بندہ پر اس کی سعی کی کمزوری ظاہر ہو۔اگر بلا اسباب کام ہو جائے تو بہت دفعہ انسان یہ خیال کرلے کہ اگر میں اس کام کو کرتا تو نہ معلوم کس طرح کرتا جب وہ ساتھ ساتھ سعی کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا جاتا ہے کہ اس کی سعی کمزور ہے اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل کیا کام کر رہا ہے۔پس سعی انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔اور انسان ساتھ کے ساتھ دیکھتا جاتا ہے کہ اگر میرے ذمہ ہی یہ کام ہو تا تو میری کوشش اور سعی بس اس حد تک ہی پہنچ سکتی تھی اور آخر مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔بصورت دیگر اسے تقدیر ایک اتفاق نظر آتی اور ستی مزید بر آن پیدا ہوتی۔اس استعمال سامان کے متعلق میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔رسول کریم کے متعلق یہ تقدیر نازل ہو چکی تھی کہ آپ کامیاب ہوں گے اور آپ کے دشمن ناکام۔اگر بلا کسی باعث کے اپنے اپنے گھروں میں لوگ بیمار پڑ کر مر جاتے تو سب لوگ کہتے کہ یہ اتفاق تھا لوگ مرا ہی کرتے ہیں۔لیکن اللہ تعالٰی نے اس تقدیر کو اسباب کے ذریعہ ظاہر کر کے اپنی قدرت کا خاص ثبوت دیا۔جنگ بدر کا ایک واقعہ اس امر کو خوب روشن کر دیتا ہے۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ اس دن میرا دل چاہتا تھا کہ آج دشمنوں کے مقابلہ میں خوب داد مردانگی دوں۔(کیونکہ یہ پہلی جنگ تھی جس میں کفار اور مسلمانوں کا جم کر مقابلہ ہونے والا تھا۔اور جس میں ایک طرف مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل اور دوسری طرف خدا اور رسول موجود تھے اور مسلمانوں کو کفار کے مظالم ایک ایک کر کے یاد آرہے تھے ) اور چونکہ لڑائی میں جس سپاہی کے دائیں بائیں بھی طاقتور آدمی ہوں وہی خوب لڑ سکتا ہے۔میں نے بھی اپنے دائیں بائیں دیکھا لیکن میرے افسوس کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ میری دونوں جانب چودہ چودہ سال کے دو انصار لڑکے تھے۔انہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ آج میں نے کیا لڑنا ہے۔یہ وسوسہ ابھی میرے دل میں پیدا ہی ہوا تھا کہ ان میں سے ایک نے مجھے کہنی ماری اور میرے کان میں آہستہ سے کہا تاکہ دوسرا نہ سن لے کہ چا! ابو جہل کون سا ہے ؟ دل چاہتا ہے کہ اس کو قتل کر دوں