انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 573

لوم جلد ۴ ۵۷۳ تقدیراتی ساری حقیقت سنائی۔تو خدا نے اس طرح خاص تقدیر کو بلا کسی سبب کے ظاہر کیا مگر ایک نبی اور اس کے متبع مولوی عبداللہ صاحب کے سامنے۔کیونکہ وہ ایمان بالغیب لا چکے تھے اور اب ان کو ایمان باشارة عطا کرنا مد نظر تھا۔غرض مؤمنوں کے ایمان کو تازہ کرنے کے لئے اللہ تعالٰی کبھی کبھی تقدیر بلا اسباب کے بھی ظاہر کرتا ہے تا خدا تعالی کی قدرت کا ثبوت ان کو ملے۔لیکن کافر کا یہ حق نہیں ہو تا کہ اس کو اس قسم کا مشاہدہ کرایا جائے۔رسول کریم جو سب نبیوں کے سردار تھے اور ہیں، آپ کی زندگی میں بھی اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔جب آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور کفار مکہ نے آپ کا تعاقب کیا اور غار ثور تک پہنچ گئے جہاں آپ حضرت ابو بکر سمیت پوشیدہ تھے۔جو کھوجی کفار کے ساتھ تھا اس نے کہہ دیا کہ یہاں تک آئے ہیں آگے نہیں گئے مگر باوجود اس کے زور دینے کے کسی کو توفیق نہیں ملی کہ گردن جھکا کر دیکھ لے۔حالانکہ جو لوگ تین میل تک تعاقب کر کے گئے تھے اور تلاش کرتے کرتے پہاڑ پر چڑھ گئے تھے ان کے دل میں طبعاً خیال پیدا ہونا چاہئے تھا کہ اب یہاں تک آئے ہیں تو جھک کر دیکھ لیں کہ شاید اندر بیٹھے ہوں۔مگر عین موقع کر بھی کسی نے گردن جھکا کر غار کے اندر نہ دیکھا۔حضرت ابو بکر فرماتے ہیں کہ غار کا منہ اس قدر چوڑا تھا کہ اگر وہ لوگ جھک کر دیکھتے تو ہمیں دیکھ سکتے تھے۔پس یہ اللی تصرف تھا جو ان کے قلوب پر ہوا اور بظاہر اس کے لئے کوئی سامان موجود نہ تھے۔یہ تقدیر کی قسم بہت کم ظاہر ہوتی ہے اور اس پر آگاہی صرف مؤمنوں کو دی جاتی ہے تا ان کا ایمان بڑھے۔غار ثور والے واقعہ میں بھی گو کفار وہاں موجود تھے مگر ان کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ محمد ال وہاں موجود ہیں اور وہ آپ کو نہیں دیکھ سکتے۔اس بات کا علم صرف آنحضرت ا اور حضرت ابو بکر کو تھا۔رسول کریم کا پانی بڑھانا بھی اس قسم کی تقدیر کی ایک مثال ہے۔آج کل کے لوگ اس نشان کا انکار کر دیں تو کر دیں لیکن حدیثوں میں اس کثرت سے اس کا ذکر آیا ہے کہ کوئی مسلمان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔مگر یہ نشان مسلمانوں ہی کے سامنے ہوا تھا کیونکہ اگر کفار کے سامنے ایسا نشان ظاہر ہوتا تو یا وہ ایمان بالغیب سے محروم رہ جاتے یا ایسے کھلے نشان کو دیکھ