انوارالعلوم (جلد 4) — Page 32
ر الحلوه سمسم عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری۔ہاں جس طرح حقیقی آگ کھانا پکا سکتی ہے۔اسی طرح مذہب کو حقیقی طور پر ماننا چاہیئے حقیقی مذہب مفید ہو سکتا ہے۔مذہب کو صرف اس لئے مانتا کہ ہمارا خاوند یوں کہتا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ہمارے ملک میں اسے رکابی یا بینگنی مذہب کہتے ہیں۔کسی راجہ نے اپنے دربار میں بینگن کی بہت تعریف کی۔اس کا ایک خوشامدی درباری بھی تعریف کرنے لگا کہ اس کا بدن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کسی صوفی نے چونا پہنا ہو۔اس کی سبز ڈنڈی ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے سبز پگڑی سر پر باندھی ہو۔سبز پتوں میں ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی عابد عبادت کرتا ہو۔لیکن کچھ دن کے بعد جب راجہ کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوئی تو اس نے دربار میں ذکر کیا کہ بینگن بڑی خراب چیز ہے۔یہ سن کر وہی درباری کہنے لگا کہ حضور بینگن بھی کوئی سبزی ہے۔اسے تو سبزیوں میں شمار کرنا حماقت ہے۔بڑی خراب اور نقصان رساں چیز ہے۔کسی نے اس سے پوچھا کہ ابھی چند دن ہوئے تم اس کی تعریف کرتے تھے اور اب مذمت کر رہے ہو یہ کیا بات ہے۔اس نے جواب دیا کہ میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نوکر نہیں۔جب انہوں نے تعریف کی تو میں نے بھی کر دی اب جب انہوں نے مذمت کی تو میں نے بھی مذمت کرنی شروع کر دی۔تو عورتوں کا مذہب بینگنی مذہب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت اسی عورتیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ جو اپنے خاوندوں کے مذہب کو اسی طرح مانتی ہیں۔الا ماشاء الله - عورتوں کو مذہب کی ضرورت مذہب کا فائدہ تو اخلاص اور حقیقت کے جانے سے ہوتا ہے۔یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کو صرف مردوں کی خوشی اور آرام کے لئے پیدا کیا گیا ہے لیکن اسلام ایسا نہیں کہتا بلکہ سمجھاتا ہے کہ عورتوں پر بھی شریعت ایسی ہی عائد ہوتی ہے جیسے مردوں پر ہے اور جس طرح مردوں کے لئے احکام شریعت کی بجا آوری ضروری ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے۔یہ نہیں کہ جس طرح بھیڑ بکری انسان کے آرام کے لئے ہیں اور ان کی کوئی مستقل غرض پیدائش کی نہیں اسی طرح عورتیں ہیں۔پس قرآن کریم جیسے مردوں کے لئے ہے ویسے ہی عورتوں کے لئے بھی ہے اور نیک عورت جو اس کے حکموں کو مانتی ہے اس کے لئے جنت کا وعدہ ہے اور جو اس کے خلاف کرتی ہے وہ دوزخ کی سزا پائے گی۔اس لئے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جائے کہ عورتوں کو بھی مذہب کی