انوارالعلوم (جلد 4) — Page 557
انوار العلوم جلد ۴ ۵۷ تقدیر الهی جس میں خدا کا کوئی دخل نہ ہو۔مگر اس سے بھی زیادہ جبر اور التیار کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں حالانکہ یہ دونوں لفظ ہی قرآن سے ثابت نہیں ہیں۔قرآن کریم سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جبار ہے مگر اس کے معنی اصلاح کرنے والا ہیں اور یہ کہتے ہیں جبریہ ہے کہ زبر دستی کام کراتا ہے حالانکہ یہ کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے۔عربی میں جبر کے معنی ٹوٹی ہوئی ہڈی کو درست کرنے کے ہیں اور جب یہ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ بندوں کے خراب شدہ کاموں کو درست کرنے والا اور اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کے حق کو دبا کر اپنی عزت قائم کرنے والا۔لیکن یہ معنی تب کئے جاتے ہیں جب بندوں کی نسبت استعمال ہو۔خدا تعالیٰ کی نسبت استعمال نہیں کئے جاتے اور نہ کئے جاسکتے ہیں کیونکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہی ہے۔یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ دوسروں کے حقوق کو تلف کر کے اپنی عزت قائم کرتا ہے۔علاوہ ازیں تدبیر کا لفظ ان معنوں پر پوری روشنی نہیں ڈالتا جن کی طرف اشارہ کرنا اس سے مقصود ہے۔کیونکہ تدبیر کے معنی عربی زبان میں کسی چیز کو آگے پیچھے کرنے کے ہیں اور مراد اس سے انتظام لیا جاتا ہے۔لیکن انتظام کا لفظ اس جگہ کچھ بھی نفس مسئلہ پر روشنی نہیں ڈالتا۔اب رہا اختیار۔اس کے معنی ہیں جو چیز پسند آئے وہ لے لینا۔پس اگر خدا تعالیٰ نے انسان کو اختیار دے دیا ہے تو جو جس کو اچھا لگا وہ اس نے لیا اور جو عمدہ نظر آیا وہ کیا۔پھر اس کو کسی فعل پر سزا کیسی ؟ تو یہ لفظ بھی غلط ہے۔صحیح نام اصل میں قرآن شریف سے جو الفاظ ثابت ہیں وہ یہ ہیں۔قدر تقدیر قضاء تدبیر الهی اور ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے کسب اور اکتساب کے لفظ رکھے ہیں۔پس قرآن کریم کی رو سے اس مسئلہ کا نام تقدیر الہی اور اکتساب یا قدر الہی اور کسب یا قضاء الہی اور کسب ہو گا۔اب میں ان ناموں کے ماتحت اس مسئلہ کی تشریح کرتا ہوں۔اول تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے تقدیر الہی کے مقابلہ میں بندہ کے لئے کسب و اکتساب کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔اور یہ لفظ بندہ ہی کے لئے استعمال ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ کے لئے نہیں استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ کسب کے معنی کسی چیز کی جستجو کرنی اور اس کو محنت سے