انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 546

انوار العلوم جلد ۵۶ چوتھی آیت کا صحیح مطلب اسی طرح یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ۔تقدیر الهی وَ قَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ أَتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاةَ زِيْنَةً وَ اَمْوَالا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ ٥ (يونس: ۸۹) موسی نے کہا کہ اے خدا! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو اس لئے دولت دی تھی تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں۔لیکن اس آیت کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ان کو لوگوں کے گمراہ کرنے کے لئے دولت دی گئی تھی بلکہ جیسا کہ پہلی آیت کے متعلق میں بتا آیا ہوں یہاں بھی لام عاقبت کا ہے اور مطلب یہ ہے کہ۔اے خدا ! تو نے تو اس غرض سے ان کو دولت نہ دی تھی کہ لوگوں کو گمراہ کریں لیکن یہ ایسا ہی کرتے ہیں۔پانچویں آیت کا صحیح مطلب پھر کہتے ہیں ایک آیت نے تو ہمارے مطلب کو بالکل صاف کر دیا۔اور وہ یہ ہے۔أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوعٍ تُشَيَّدَةٍ ، وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةً يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةَ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِكَ ، قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ ، فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا (النِّسَاء : ۷۹) فرمایا۔جہاں کہیں تم ہو گے وہیں تمہیں موت پہنچ جائے گی۔خواہ مضبوط برجوں میں ہی کیوں نہ ہو۔اگر ان کو بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ محمد ( ال ) کی طرف سے ہے فرمایا۔ان کو کہہ دو سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ان کو ہو کیا گیا اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے کہتے ہیں دیکھو اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ بھلائی برائی خدا کی طرف سے پہنچتی ہے۔مگر وہ سمجھتے نہیں کہ اول تو ہر ایک فعل کے خواہ برا ہو یا بھلا۔نتائج اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتے ہیں اور اس بات سے کون انکار کرتا ہے کہ ہر ایک فعل کی سزا یا جزاء خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے لیکن اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ بھلائی اور برائی خدا تعالی ہی کی طرف سے آتی ہے تو پھر بھی کچھ حرج نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ کبھی خادم کے کام کو آقا کی طرف منسوب کر