انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 383

العلوم جلد ۴ عرفان الهی جو تزکیہ نفس کے لئے ضروری ہے یہ ہے کہ انسان نے جو اوامر اور نواہی ساتویں بات معلوم کئے ہوں ان پر غور کرنے کی عادت ڈالے۔پہلے میں نے بتایا تھا کہ خیالات بد کو دل سے نکالنا چاہئے کیونکہ ان کے دل میں جمنے سے نقصان ہوتا ہے۔لیکن اب کہتا ہوں کہ اوامر اور نواہی کو دل میں جمانا چاہئے۔کیونکہ ان کے جمانے سے فائدہ ہے۔مثلاً نماز کی برکات اور فوائد پر غور کیا جائے۔روزے اور دیگر اعمال صالحہ کی حقیقت اور فوائد پر نظر کی جائے۔اسی طرح جھوٹ فریب غداری فسق و فجور وغیرہ کی حقیقت اور ان کے نتائج پر غور کیا جائے کیونکہ حقیقت کے انکشاف سے بھی انسان کے دل میں کسی چیز کی محبت یا اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا وَ لَهُمْ۔أعْيُنَ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانَّ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا (الاعراف:۱۸۰) فرمایا بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل تو ہوتے ہیں مگر ان دلوں سے کام نہیں لیتے۔اور آنکھیں تو ہوتی ہیں مگر ان آنکھوں سے کام نہیں لیتے اور کان تو ہوتے ہیں۔مگر ان کانوں سے کام نہیں لیتے۔مطلب یہ ہے کہ جب تک دل کے کانوں اور دل کی آنکھوں سے نہ کام لیا جائے اس - وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔یہ ہے کہ انسان میں مادہ قبولیت ہو۔یہ نہ ہو کہ کوئی بات سنے اور پھر اس پر آٹھویں بات عمل کرنے کی کوشش نہ کرے۔بلکہ جب کوئی بات بتائی جائے تو اس کی طرف توجہ کرے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔اس نکتہ کی طرف بھی اس مذکورۃ الصدر آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔جو لوگ سن کے ان سنا کر دیتے ہیں اور دیکھ کر ان دیکھا کر دیتے ہیں ان کے لئے ترقی کرنا ناممکن ہے۔یہ ہے کہ اگر کسی غلطی پر تنبیہ ہو تو اسے برداشت کیا جائے۔بہت لوگ اس لئے اپنی اصلاح نہیں کر سکتے کہ جب انہیں ان کی کوئی غلطی بتائی جائے تو اس پر چڑتے ہیں اور اس کی اصلاح نہیں کرتے۔لیکن ایسا نہیں چاہئے جب غلطی پر تنبیہ ہو تو اس کو برداشت کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمَ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (البقرة: (۲۰) کہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو اگر کہا جائے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔تو ان کو نصیحت کے سننے سے غیرت آجاتی ہے ار اپنی ہتک عزت کے خیال سے دیوانہ ہو کر بجائے نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے ناصح کا مقابلہ کرنے لگ جاتے نویں بات -