انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 13

م جلد اس زمانہ میں بھی ایک شخص نے مسیح ہونے کا دعوی کیا ہے اس لئے اس کے ماننے اور نہ ماننے والوں کا بھی وہی انجام ہو گا جو پہلے مسیح کے ماننے اور نہ ماننے والوں کا ہوا کیونکہ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کا وہی طریق ہے جو پہلے مسیح اور اس کی جماعت کا تھا لیکن سرے لوگ اس راستہ پر چل رہے ہیں جس پر پہلے مسیح کے نہ ماننے والے چلے تھے۔کوئی کے کہ مرزا صاحب نے مسیح ناصری سے مشابہت حاصل کرنے کے لئے وہی طریق اختیار کر لیا ہے جو مسیح ناصری کا تھا۔ورنہ دراصل مسیح موعود آپ نہیں۔لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ اگر اس طرح کہا جائے کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جس کا کوٹ کالا ہو گا۔پگڑی اس طرح کی ہوگی اور اس کے دشمن اس اس طرح کرنے والے ہوں گے تو یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی کالا کوٹ پہن لے اور پگڑی بھی اسی طرح کی باندھ لے لیکن یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے کہ اپنے دشمن بھی ایسے ہی فعل کرنے والے پیدا کر لے۔پس اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے مسیح ناصری سے مشابہت اختیار کرنے کے لئے خود ان کا طریق اختیار کیا اور اپنی جماعت کو کرایا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ پھر آپ کے مخالفین نے کیوں وہ طریق اختیار کیا ہے جو حضرت مسیح کے مخالفین (یہود) نے اختیار کیا تھا۔کیا انہوں نے بھی یہود سے مشابہت حاصل کرنے کے لئے ایسا کیا ہے۔یہود نے سیاسی انجمنیں بنائی تھیں اور حکومت کے خلاف منصوبے کئے تھے۔شورشیں پھیلائی تھیں۔آج یہی نظارہ ہم مخالفین مسیح موعودؓ میں دیکھتے ہیں۔جس طرح وہاں نہ ماننے والوں نے سیاسی انجمنیں بنائی تھیں اور ماننے والوں نے تبلیغی ، اسی طرح یہاں ہے۔جس طرح وہاں ایک غیر قوم کی حکومت تھی اسی طرح یہاں ہے۔جس طرح وہاں حضرت مسیح نے حکومت کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔اسی طرح یہاں حضرت مسیح موعود نے گورنمنٹ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا ہے۔پس جب ان سب باتوں میں مشابہت پائی جاتی ہے تو ضرور ہے کہ جو نتیجہ وہاں نکلا تھا یہاں بھی نکلے اس لئے مسلمانوں کو اس مثال سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور ای طریق کو اختیار کرنا چاہئے جس کا نتیجہ عمدہ نکل چکا ہے۔اس میں نہ حکومت کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہے نہ قرآن کریم کی۔لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس وقت تک اس کو اختیار نہیں کیا اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ہاں حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو یہی طریق سکھایا اور اسی پر چلایا ہے اور میں بھی اسی پر چلانا چاہتا ہوں۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ انگریزوں کو