انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 372

وم جلدم ۳۷۲ عرفان الهی کہ ان افعال کا جن کو حضرت احدیت نا پسند فرماتے ہیں اور ان کا جن کو پسند فرماتے ہیں پورا علم حاصل کیا جاوے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قرآن پر جس پر تلاوت فرماتے تھے اوامر اور نواہی کی فہرست بنائی ہوئی تھی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کی تعمیل کا کس قدر خیال تھا۔تو تزکیہ کے لئے ان باتوں کا معلوم ہونا نہایت ضروری ہے اور جب یہ معلوم ہو جائیں تو پھر بہت آسانی ہو جاتی ہے۔کیونکہ انسان بے علمی کی تاریکی سے نکل کر علم کے اجالے میں آجاتا ہے۔جب اوامر و نواہی معلوم ہو جائیں تو ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کیونکہ صحیح ذرائع کے معلوم ہونے کے بعد ان پر کوشش کرنا ہی کامیابی کا واحد گر ہوتا ہے۔لیکن عمل کرنے میں اگر کوئی غلطی ہو جائے یا پوری طرح عمل نہ کر سکے تو بھی کوشش چھوڑنی نہیں چاہئے۔بلکہ کوشش جاری رکھنی چاہئے جو اس کی آئندہ ترقی کا باعث ہو جائیگی۔ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جن اعمال کے بغیر ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا ان میں سے کسی کو چھوٹنے نہ دے اور سب پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔تیسرا ذریعہ صفات الہیہ کو اپنے نفس میں جاری صفات الہیہ کے حصول کا تیسرا ذریعہ کرنے کا یہ ہے کہ ایسے اعمال جن کے کرنے یا۔نہ کرنے سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے۔انسان ان کو دل میں لائے اور ان کا بار بار ورد کرے۔کیونکہ جن باتوں کو بار بار یاد کیا جاتا ہے وہ دل میں گڑ جاتی ہیں۔میں اس کے متعلق مثال دے کر سمجھاتا ہوں مثلاً ایک ایسا شخص ہے جسے جھٹ پٹ غصہ آجاتا ہے۔اسے چاہئے کہ فرصت کے اوقات میں اس امر پر غور کیا کرے کہ مجھے غصہ بہت جلد آ جاتا ہے اور یہ برا فعل ہے اور میری روحانی ترقی کے راستہ میں روک ہے اس لئے میں آئندہ ہرگز ہرگز ہرگز ایسا فعل نہ کرونگا۔اور اس امر کو بار بار اپنے دل میں لاوے یہاں تک کہ دل میں نقش ہو جاوے اور وہ ی اس مرض سے بچ جائے۔اگر اس طرح کا عہد کہ میں آئندہ یہ کام نہ کرونگا یا کرونگا اسے یاد نہ رہتا ہو اور اس طرح کامیابی نہ ہو تو ایک اور گر ہے اسے استعمال کرے۔اور وہ یہ کہ لمبے عہد سے انسان کی طبیعت گھبرا جاتی ہے اس لئے بجائے لمبے عہد کے یہ سوچے کہ یہ فعل میں آج تو ضرور کرونگا یا آج بالکل نہیں کرونگا۔اس دن اس کا نفس رکا رہیگا۔کیونکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کریگا کہ کیا ایک دن بھی میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔دوسرے دن سے پہلے وہ پھر