انوارالعلوم (جلد 4) — Page 370
انوار العلوم جلد ٣٧٠ عرفان الهی حقیقت ہے۔تو خیال کے متعلق بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بے حقیقت سے ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ خیال کوئی بے حقیقت چیز نہیں ہے بلکہ خیال مادہ ہے تمام چیزوں کا کیونکہ اسی سے آگے نتائج نکلتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمُ بِهِ الله (البقرة : ۲۸۵) کہ اے لوگو جو خیال تمہارے دل میں آئے۔اسے خواہ تم عمل میں لاؤ یا پوشیدہ رکھو اللہ اس کا حساب لے گا اس کے یہ معنی نہیں کہ یوں اگر کسی کے دل میں کوئی خیال پیدا ہو گا تو بھی اس سے مؤاخذہ کیا جائیگا۔کیونکہ خدا تعالٰی بھی فرماتا ہے اور رسول کریم " بھی فرماتے ہیں کہ جس بات پر انسان کا بس نہیں اس کا مواخذہ نہیں ہو گا۔مثلاً اگر کوئی شخص چلتے چلتے کہیں مال دیکھتا ہے اور اس کے دل میں آتا ہے کہ میں اسے اٹھالوں۔تو صرف اس خیال کے آنے پر اس سے مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ہاں اگر یہ خیال آنے پر وہ سوچنا شروع کر دے کہ میں کس طرح اس مال کو اٹھاؤں کس وقت اٹھاؤں۔تو اس کا یہ سوچنا اور تدبیریں کرنا قابل مؤاخذہ ہو گا۔چنانچہ جب یہ آیت اتری تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صحابہ گئے۔اور جا کر عرض کی کہ بعض اوقات کوئی برا خیال تو خود بخود دل میں آجاتا ہے کیا اس طرح ہم ہلاک ہو جائینگے آپ نے فرمایا کہ جب کوئی برا خیال دل میں آتا ہے اور انسان اس پر عمل نہیں کرتا تو یہ خود نیکی ہے۔(بخارى كتاب الرقاق باب من هم بحسنة او سيئة) پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ خیال جو دل میں گڑ جاتا ہے اور جس کے سوچنے میں انسان لگ جاتا اور تدبیریں شروع کر دیتا ہے اس کا محاسبہ ہو گا ورنہ اگر کسی کو خیال آئے کہ میں چوری کروں اور وہ اسے فورا نکال دے تو وہ ایک نیکی کرتا ہے۔اسی طرح اگر اسے کسی کو قتل کرنے کا خیال آئے۔لیکن اسے نکال دے تو وہ نیکی کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔اور سزا کا مستحق اسی حالت میں ہوتا ہے جب کہ اس خیال پر قائم رہتا ہے۔پس اس نکتہ کو خوب یاد رکھو۔یہ اعمال کی اصلاح کے اصلاح اعمال کا بہت بڑا زینہ لئے بہت بڑا زینہ ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ کسی برے خیال کا یدا ہونا تمہارے اختیار میں نہیں۔لیکن اس کا نکالنا تمہارے اختیار میں ہے اس لئے فور انکال دیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ایک حکایت بیان فرمایا کرتے تھے کہ لطیف حکایت ایک شخص باغ سے انگور کا ٹوکرا اٹھا کر لئے جار ہا تھا کہ باغ کا مالک آگیا اور