انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 350

نوم جلد ۴ ۳۵۰ عرفان اتی دوسرے دوستوں کو بھی میری صحت کی نسبت بعض منذر رویا ہوئی ہیں۔اس لئے اس وقت جس قدر موقع ملا ہے اس کے مطابق ایک شق بیان کرتا ہوں اور باقی کو خدا کی منشاء پر چھوڑتا ہوں۔اگر چہ خدا کی طرف سے بعض بشارتیں بھی ملی ہیں۔گو وہ ایسی نہیں کہ ان کی رُو سے قطعی فیصلہ کیا جا سکے کہ مجھے باقی شقوں کے بیان کرنے کا موقع ملیگا یا نہیں مگر میرا قیاس ہے کہ وقع ملیگا۔ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعاء میں ایک مبشر رویا بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں کہ الہی! میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم کا ہوا۔پھر جوش میں آکر کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی دعا کر رہا ہوں کہ دروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسمعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔اسمعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی۔اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل دو قائمقام کھڑے کر دیئے۔یہ ایک طرح کی بشارت ہے۔جس سے آپ لوگوں کو خوش ہو جانا چاہئے۔اب میں اپنے مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔میں کہہ چکا ہوں کہ توجہ سے سننے کی تاکید عرفان الہی کے حصول کے لئے بہت بڑی کوشش کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر یہ نعمت حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ علم کامل کے بغیر حاصل ہو سکتی ہے۔پس جو کچھ میں سناؤں اسے غور سے سنو کیونکہ غور سے سنے بغیر کوئی بات یاد نہیں رہ سکتی۔اور جو بات یاد ہی نہ رہے اس پر عمل بھی نہیں ہو سکتا۔پس میں بڑی محبت اور اخلاص سے کہتا ہوں کہ اس وقت اگر کوئی ہوتا ہے تو جاگ اٹھے۔اگر کوئی غافل ہے تو ہوشیار ہو جائے۔اگر کسی کی توجہ دوسری طرف ہے تو اس طرف کرے۔کیونکہ میں وہ کچھ سنانے لگا ہوں جس کے سننے میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔میں تم سے اس کے بدلے میں کچھ مانگتا نہیں کوئی مطالبہ نہیں کرتا بلکہ محض اس لئے سناتا ہوں کہ میں اپنا وہ فرض ادا کر دوں جو مجھ پر عائد ہوتا ہے۔اور تم اس سے نفع اٹھالو۔اگر تم اس پر عمل کرو گے جو میں تمہیں بتاؤ نگا تو دیکھو گے کہ تمہیں کیا کچھ حاصل ہوتا ہے اور اس سے تم کس قدر لذت اٹھاتے ہو۔مگر یاد رکھو جو کچھ میں بتاؤ نگا وہ کوئی جادو کی بات نہیں ہوگی کہ سنتے ہی رات کو عمل کر لیا جائے اور صبح انسان عارف بن جائے۔میں نے پہلے ہی کہدیا ہے کہ عرفانِ الہی اس طرح حاصل نہیں ہوا کرتا بلکہ اپنے نفس کے مٹا دینے سے حاصل