انوارالعلوم (جلد 4) — Page 349
العلوم جلد " کام عرفان المی کا عرفان یونہی حاصل نہیں ہو جاتا۔کئی لوگوں کو دیکھا گیا ہے وہ یوں تو چاہتے ہیں کہ خدامل جائے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ جھٹ پٹ مل جائے۔ہماری جماعت کے لوگوں پر خدا کا فضل ہے اور وہ الگ قسم کے ہیں۔ورنہ دوسرے لوگ تو اس قسم کی تقریر بھی نہیں سن سکتے اور کہتے ہیں کہ ادھر ایک فقرہ منہ سے نکلے اور ادھر وہ عارف باللہ ہو جائیں۔حالانکہ تقریروں نہیں بلکہ بڑی بڑی محنت کرنے ، اپنے نفس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے اور اپنے آپ کو خدا کی محبت میں بھلا دینے کے بعد یہ نعمت حاصل ہو سکتی ہے۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور سنت کے ماتحت اپنے آپ کو خدا کے پانے کے لئے تم کر دینے پر حاصل ہو سکتی ہے۔پس تم میں سے وہ لوگ جو عرفانِ الہی حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی ایک شخص بھی ایسا ہو جو یہ خواہش نہ رکھتا ہو کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو قبول کرتا ہے وہ اس لئے کہ اسے عرفانِ الہی حاصل ہو۔ان کو چاہئے کہ اس امر کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔اور پھر جو کچھ میں آج ان کو بتانا چاہتا ہوں اس کو غور سے سنیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ذرائع جو عرفانِ الہی کے حصول کے لئے میں بتاؤ نگا اس سے پہلے تم نے کبھی نہیں سنے بلکہ ان میں سے بہت سے تم نے پہلے سنے ہونگے۔میری غرض آج کے لیکچر یہ ہے کہ میں ان امور کو جو عرفان الہی کے حصول کے لئے ضروری ہیں ایسی صورت میں آپ لوگوں کے سامنے اس علم سمیت جو خدا تعالٰی نے مجھے دیا ہے رکھدوں کہ اسے آپ لوگو آسانی سے استعمال کر سکیں اور یاد رکھ سکیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے اس مضمون کے متعلق خاص علم دیا ہے اور یہ کوئی میری ذاتی خوبی یا میرا اکتسابی علم نہیں ہے اور نہ ہی میری کوشش اور محنت کو اس میں کچھ دخل ہے۔یہ محض خدا کا فضل اور رحم ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے اور مجھے ایسا علم دیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں جو اس سے فائدہ اٹھائینگے وہ بہت جلد اپنے اندر تبدیلی پیدا کر سکیں گے۔ایک مدت سے میری خواہش تھی کہ اس علم سے اپنی جماعت کو واقف کروں۔مگر چونکہ یہ علم بہت اہم اور اس کی بہت سی شاخیں ہیں جن کے بیان کرنے کے لئے بہت سے وقت کی ضرورت ہے۔مگر اس وقت نہ تو اتنی فرصت اور نہ صحت ایسی ہے کہ کوئی لمبی تقریر کر سکوں اس لئے اس وقت صرف ایک شق کی ہے اور منشاء ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوسری شقوں کو بھی بیان کروں۔مگر میں نہیں جانتا مجھے اس کا موقع ملیگا یا نہیں۔کیونکہ مجھے اور