انوارالعلوم (جلد 4) — Page 347
انوار العلوم جلد ) سمسم عرفان الهی عرفانِ الہی تو ایک بڑی بیش قیمت اور گراں بہا چیز ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی بغیر محنت اور کوشش کے نہیں مل سکتی۔چھوٹے بچے جھاڑیوں سے بیر کھاتے ہیں۔بیر ایک بہت معمولی سی اور مفت ہاتھ آنے والی چیز ہے۔جنگل میں بڑی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں لیکن ان کو حاصل کرنے میں بھی ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں اور کپڑے پھٹ جاتے ہیں۔پس اگر بیروں جیسی معمولی چیز بھی بغیر محنت اور مشقت کے حاصل نہیں ہو سکتی تو پھر خدا کس طرح بغیر محنت اور کوشش کے حاصل ہو سکتا ہے۔دونوں جہانوں میں اگر کوئی چیز ہے تو وہ خدا ہے۔اور جب بے حقیقت اور معمولی چیزوں کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا جو سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے وہ صرف ایک آدھ دفعہ آہ کھینچنے اور افسوس کا اظہار کرنے سے مل جائے۔ایسے لوگوں کو نہ کبھی خدا ملا ہے نہ مل سکتا ہے اور نہ ملیگا۔کیونکہ خدا کو پانے کے لئے ضروری ہے کہ مجاہدات کئے جائیں ورنہ اگر کوئی اس امید پر بیعت کرتا ہے کہ ادھر ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور ادھر خدا کی درگاہ میں پہنچ جائیگا تو یہ اس کی غلطی ہے اور وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔بعض نادان سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے بزرگ ہوئے ہیں کہ ادھر انہوں نے کسی کی طرف نظر کی اور ادھر اس کے سارے زنگ دور ہو گئے اور وہ قطب بن گیا۔لیکن یہ بالکل غلط ہے خدا کی معرفت اس قدر آسانی سے نہ کبھی ملی ہے اور نہ آئندہ مل سکتی ہے۔اور اس وقت تک کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں پائی جاتی کہ معرفت بغیر کسی قربانی ، بغیر کسی کوشش اور بغیر کسی محنت کے کسی کو حاصل ہوئی ہو۔سب سے اعلیٰ درجہ کے انسان تو انبیاء ہیں۔اولیاء تو ان سے بہت کم درجہ کے ہوتے ہیں۔ان کے متعلق یہ کہنا کہ سید عبد القادر جیلانی نے ایک چور کی طرف دیکھا تو قطب بن گیا۔یا حضرت معین الدین چشتی کو آپ کے استاد نے ایک نظر میں اس درجہ تک پہنچا دیا اور انہیں سب کچھ حاصل ہو گیا بالکل غلط ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالٰی کا وہ رسول جس کے طفیل اور جس کی غلامی سے ان کو سب کچھ ملا اس کو خدا کس طرح ملا۔اس کے لئے قرآن و حدیث سے پتہ لگ سکتا ہے قرآن میں خدا تعالیٰ رسول کریم اللہ ﷺ کو فرماتا ہے۔وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى (الضحی : (۸) کہ ہم نے تجھ کو اپنی محبت میں جب ایسا چور پایا کہ تمہیں اپنے سر پیر کی بھی خبر نہ رہی اور توجب محبت الہی میں ایسا کم ہو گیا کہ تجھے اپنا پتہ ہی نہ رہا اس وقت ہم نے تجھے ہدایت دی۔ضال کے اصل معنی محبت میں چور اور گم ہونے کے ہیں۔اور قرآن اس بات کی شہادت دیتا