انوارالعلوم (جلد 4) — Page 323
لوم جلد ۴ ۳۲۳ اسلام میں اختلافات کا آغاز ان کے ساتھیوں کا قلع قمع کر کے چھوڑیں گے۔مفسدوں کے جاسوسوں نے انہیں اس ارادہ کی اطلاع دے دی تھی اور اب ان کے کیمپ میں سخت گھبراہٹ کے آثار تھے۔حتی کہ ان میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اب اس شخص کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اور اگر اسے ہم نے قتل نہ کیا تو مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہمارے قتل میں کوئی شبہ نہیں۔اس گھبراہٹ کو اس خبر نے اور بھی دوبالا کر دیا کہ شام اور کوفہ اور بصرہ میں بھی حضرت عثمان کے خطوط پہنچ گئے ہیں اور وہاں کے لوگ جو پہلے سے ہی حضرت عثمان کے احکام کے منتظر تھے۔ان خطوط کے پہنچنے پر اور بھی جوش سے بھر گئے ہیں اور صحابہ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے مسجدوں اور مجلسوں میں تمام مسلمانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلا کر ان مفسدوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا ہے۔اور وہ کہتے ہیں جس نے آج جہاد نہ کیا اس نے گویا کچھ بھی نہ کیا۔کوفہ میں عقبہ بن عمرو عبد اللہ بن ابی اوفی اور حنظلہ بن ربیع التمیمی اور دیگر صحابہ کرام نے لوگوں کو اہل مدینہ کی مدد کے لئے ابھارا ہے تو بصرہ میں عمران بن ن انس بن مالک ، ہشام بن عامر اور دیگر صحابہ نے۔شام میں اگر عبادہ بن صامت ابو امامہ اور دیگر صحابہ نے حضرت عثمان کی آواز پر لبیک کہنے پر لوگوں کو اکسایا ہے تو مصر میں خارجہ و دیگر لوگوں نے۔اور سب ملکوں سے فوجیں اکٹھی ہو کر مدینہ کی طرف بڑھی چلی آتی ہیں۔حصین طبری جلد ۲ صفحہ ۲۹۶۰ مطبوعہ بیروت) غرض ان خبروں سے باغیوں کی گھبراہٹ اور حضرت عثمان کے گھر پر مفسدوں کا حملہ بھی بڑھ گئی آخر حضرت عثمان کے گھر پر حملہ کر کے بزور اندر داخل ہونا چاہا صحابہ نے مقابلہ کیا اور آپس میں سخت جنگ ہوئی گو صحابہ کم تھے مگر ان کی ایمانی غیرت ان کی کمی کی تعداد کو پورا کر رہی تھی۔جس جگہ لڑائی ہوئی یعنی حضرت عثمان کے گھر کے سامنے وہاں جگہ بھی تنگ تھی۔اس لئے بھی مفسد اپنی کثرت سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔حضرت عثمان کو جب اس لڑائی کا علم ہوا تو آپ نے صحابہ کو لڑنے سے منع کیا۔مگر وہ اس وقت حضرت عثمان کو اکیلا چھوڑ دینا ایمانداری کے خلاف اور اطاعت کے حکم کے متضاد خیال کرتے تھے اور باوجود حضرت عثمان کو اللہ کی قسم دینے کے انہوں نے کوٹنے سے انکار کر دیا۔