انوارالعلوم (جلد 4) — Page 318
علوم جلد ۴ FIA اسلام میں اختلافات کا آغاز درست تھا۔حضرت عثمان بنو امیہ کے بیانی کے ولی تھے اور ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی عداوت کو دیکھ کر آپ کا خوف درست تھا کہ بیتائی اور بیواؤں کے اموال ضائع نہ ہو جائیں۔جھوٹے وہ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے دین کی تباہی کا بیڑا اٹھایا تھا نہ ام المؤمنین ام حبیبہ"۔(طبری جلد ۶ صفحه ۳۰۲۹ مطبوعہ بیروت) حضرت ام حبیبہ کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا حضرت عائشہ کی حج کے لئے تیاری تھا۔جب اس کی خبر مدینہ میں پھیلی تو صحابہ پور اہل مدینہ حیران رہ گئے اور سمجھ لیا کہ اب ان لوگوں سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنی فضول ہے۔حضرت عائشہ نے اسی وقت حج کا ارادہ کر لیا اور سفر کی تیاری شروع کر دی۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ مدینہ سے جانے والی ہیں تو بعض نے آپ سے درخواست کی کہ اگر آپ ہیں ٹھریں تو شاید فتنہ کے روکنے میں کوئی مدد ملے اور باغیوں پر کچھ اثر ہو۔مگر انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھ سے بھی وہی سلوک ہو جو ام حبیبہ سے ہوا ہے خدا کی قسم! میں اپنی عزت کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتی کیونکہ وہ رسول کریم ﷺ کی عزت تھی اگر کسی قسم کا معاملہ مجھ سے کیا گیا۔تو میری حفاظت کا کیا سامان ہو گا خدا ہی جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں میں کہاں تک ترقی کریں گے اور ان کا کیا انجام ہو گا۔حضرت عائشہ صدیقہ نے چلتے چلتے ایک ایسی تدبیر کی جو اگر کارگر ہو جاتی تو شاید فساد میں کچھ کمی ہو جاتی۔اور وہ یہ کہ اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو کہلا بھیجا کہ تم بھی میرے ساتھ حج کو چلو مگر اس نے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا۔کیا کروں بے بس ہوں۔اگر میری طاقت ہوتی تو ان لوگوں کو اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہ ہونے دیتی۔حضرت عائشہ تو حج کو تشریف لے حضرت عثمان کا والیان صوبہ جات کو مراسلہ گئیں اور بعض صحابہ" بھی جن سے ย ممکن ہو سکا اور مدینہ سے نکل سکے مدینہ سے تشریف لے گئے اور باقی لوگ سوائے چند اکابر صحابہ کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور آخر حضرت عثمان کو بھی یہ محسوس ہو گیا کہ یہ لوگ نرمی سے مان نہیں سکتے اور آپ نے ایک خط تمام والیان صوبہ جات کے نام روانہ کیا جس کا خلاصہ یہ تھا۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے بعد بلا کسی خواہش یا درخواست کے مجھے ان لوگوں میں