انوارالعلوم (جلد 4) — Page 226
انوار العلوم جلد ہی ۲۲۶ اصلاح اعمال کی تلقین ان باتوں کے سمجھنے کے لئے پہلے لوگوں میں اتنی قابلیت کوئی حرکت ضائع نہیں ہوتی نہ تھی جتنی اب ہے کیونکہ اب نیچر کے قواعد کی رو سے معلوم کر لیا گیا ہے کہ باریک سے باریک اثر بھی ضائع نہیں جاتا بلکہ دوسری چیزوں کو مؤثر کرتا ہے۔چنانچہ بے تار برقی کا پیغام اسی بات سے فائدہ اٹھا کر بنایا گیا ہے کہ کوئی حرکت جو پیدا ہوتی ہے وہ ضائع نہیں جاتی بلکہ اس کی لہریں چلتی ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہیں۔جس طرح مادی دنیا میں حرکات کی لہریں چلتی ہیں اسی طرح روحانی دنیا روحانی دنیا کی لہریں میں بھی چلتی ہیں۔جو کبھی تو اتنی نمایاں ہوتی ہیں کہ ہر ایک انسان انہیں دیکھ لیتا ہے اور کبھی ایسی کہ اس آلہ بے تار کی طرح ان کا علم ان ہی کو ہو سکتا ہے جن کے پاس ان کے معلوم کرنے کا آلہ ہوتا ہے۔بڑی بڑی لہریں انبیاء کے وجود سے پیدا ہوتی ہیں ان سے جو انبیاء کے وجود سے لہریں کریں پیدا ہوتی ہیں وہ اپنی اپنی طاقت کے بموجب ایک ایک صوبہ ایک ایک ملک یا ساری دنیا میں پھیلتی ہیں۔چنانچہ ایسی لہریں کئی دفعہ دنیا میں پھیلیں اور بہتوں نے محسوس کی ہیں۔بہت پرانے زمانے کی تاریخیں موجود نہیں لیکن حضرت نوح علیہ السلام کا حال قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔گو وہ دکھوں میں مبتلاء کئے گئے انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں مگر ان میں ایسی طاقت تھی کہ جس سے پیدا ہونے والی لہر کو بہتوں نے دیکھا اور محسوس کیا۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت لہر اٹھی اور اس زور سے اٹھی کہ جس نے ایک وسیع خطہ زمین کا احاطہ کر لیا۔پھر سب سے بڑی لہر جس کا اندازہ لگایا گیا وہ موسیٰ علیہ حضرت موسیٰ کے زمانہ کی لہر السلام کے زمانہ میں پیدا ہوئی۔دیکھئے کس قدر ادنی درجہ سے قوم کو انہوں نے نکالا اور کیسے ظالم اور زبردست دشمنوں کے پنجہ سے چھڑایا۔بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس نہ فوج تھی اور نہ کسی اور قسم کی قوت مگر ان کے اس دل میں جس میں خدا تعالیٰ کے لئے عجز اور انکسار بھرا ہوا تھا جو لہر پیدا ہوئی اس نے ان کی قوم میں زندگی پیدا کردی اور وہ قوم جو حد درجہ کی ذلیل ہو چکی تھی حتی کہ کسی قبطی کی نظر اس قوم کے آدمی پر پڑ جاتی تو اسے واجب القتل قرار دے دیا جاتا۔بادشاہ جب باہر نکلتا تو منہ پر نقاب ڈال کر نکلتا تاکہ کسی پر نظر نہ پڑے اس سے زیادہ کسی قوم کی ذلت اور کیا ہو سکتی ہے ؟ آج ہندو کہتے ہیں کہ