انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 204

رالعلوم جلد ۴ ۲۰۴ حقیقت الامر نکالا ہے جماعت کو صحیح راستہ سے ہٹانے کا تو میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں آپ حق سے اور بھی دور نہ جا پڑیں اور صداقت کو آپ کی آنکھوں سے اور بھی مخفی نہ کر دیا جاوے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اپنے غضب سے بچاوے اور حق پر قائم رہنے اور قائم ہونے کی توفیق عطا فرمادے۔مولوی صاحب! آپ تحریر فرماتے ہیں کہ جس شخص کی جسمانی فرزندی مجھے حاصل ہے اس کی روحانی فرزندی کا آپ کو بھی دعوئی ہے۔مگر شاید اس ہمدردی کے اظہار کے وقت آپ کو یہ خیال نہیں رہا کہ اس کی روحانی فرزندی کا مجھے بھی دعوئی ہے صرف آپ کو نہیں۔اور یہی نہیں بلکہ میری روحانی فرزندیت کے متعلق تو اس رب قدیر کی شہادت ہے جو اصدق الصادقین ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود حقیقت‎ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں۔”خدا نے مجھے بشارت دے کر فرمایا کہ اس کے عوض میں جلد ایک اور لڑکا پیدا ہو گا جس کا نام محمود ہو گا اور اس کا نام ایک دیوار پر لکھا ہوا مجھے دکھایا گیا۔اور ابھی ستر دن پہلے لڑکے کی موت پر نہیں گزرے تھے کہ یہ لڑکا پیدا ہو گیا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا۔" (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲۷) پس جس کو خدا نے محمود قرار دیا ہے اور اس کا نام مسجد کی دیوار پر لکھ کر دکھایا۔جس سے مراد جماعت کی امامت تھی تو اس کی روحانی فرزندیت کا انکار کیونکر ہو سکتا ہے۔مگر بهرحال میرا دعوئی سچا ہو یا جھوٹا۔نفس دعوئی میں تو میں اور آپ دونوں برابر ہیں۔پس اس ہمدردی کے وقت حضرت صاحب کی روحانی فرزندیت کا جو مجھے دعوئی ہے اس کا بھی انکار کرنا قابل تعجب ضرور ہے۔مولوی صاحب! آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ بیماری کے وقت انسان کا دل نرم ہو جاتا ہے اور خصوصاً ایسے نازک وقت میں کہ جب یہ سمجھ لے کہ اس کی موت قریب آگئی ہے اور وہ تھوڑی ہی دیر میں خدا تعالیٰ سے ملاقی ہونے والا ہے اور یہی وقت ہے کہ انسان کو حقیقتاً اپنے ایمان کا حال معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ ذرہ بھی دھوکا یا قریب ہو تو انسان کا دل ایسے وقت میں خود بخود دہل جاتا ہے اور اس کی اپنی حالت اس کے لئے باعث عبرت ہو جاتی ہے۔اور ایسے وقت مجھ پر بھی اس بیماری میں ضرور آئے ہیں کہ جب مجھے یقین کامل ہو گیا کہ میں چند منٹ سے زیادہ اس دنیا میں نہیں رہ سکتا۔بلکہ ایک وقت تو اس طرح نبضیں چھٹ گئیں اور تمام بدن سے زندگی کی روح نکل گئی کہ سوائے چند انچ دل کے قریب کی جگہ کے باقی سب بدن