انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 96

انوار العلوم جلدم ۹۶ علم حاصل کرو مضامین روپے خرچ کر کے اور تکالیف برداشت کر کے جاتے ہیں اگر اپنے گھر پر ہی اس فرض کے ادا کرنے کا موقع مل جائے تو اور کیا چاہئے۔یہ تو ہمارے لئے بہت آسان کام ہے اس لئے غیر احمدیوں کا یہاں جلسہ کرنا ہمارے لئے مفید اور خوشی کی بات ہے کیونکہ جن لوگوں کو ہم نہیں جگا سکتے ان کو وہ گھر کے ہونے کی وجہ سے جگا گئے ہیں۔چنانچہ ان کے جلسہ کے بعد یہاں اور ارد گرد کے غیر احمدیوں میں مذہبی باتوں کا خوب چرچا ہو گیا ہے اور یہ ان لوگوں کی بیداری کی ایک علامت ہے۔پھر ان کے جلسہ سے ہمیں یہ فائدہ ہو گیا کہ ہمارے مبلغوں کو کرایہ بھر کر اور کہیں نہ جانا پڑا بلکہ وہ لوگ خود بخود کرایہ دے کر یہاں آگئے۔ان ایام میں میں نے رات کو جلسے کرادیئے تھے جن میں وہ لوگ آگر سنتے رہے۔یہ تو مولویوں کے کارنامے ہیں مگر کو تعلیم یافتہ گروہ بھی خاموش نہیں رہا۔ولایت سے قدوائی اور دوسرے کئی لوگ ہمارے خلاف لکھنے لگ گئے ہیں، بعض اخبارات بھی ہمارے متعلق لکھنے کیلئے وقف ہو گئے ہیں، ثناء اللہ کا اخبار تو پرانی بیماری تھی ہی ایک نیا اخبار ستاره صبح بھی نکلا ہے جس کے ایڈیٹر نے سمجھ رکھا ہے کہ کسی گورنمنٹ کا مقابلہ کرنے سے ہی شہرت حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح ایک شور پڑ جاتا ہے اس لئے اس نے پہلے تو دنیاوی گورنمنٹ کا مقابلہ کیا مگر جلد ہی اس کی گرفت اسے نظر آگئی۔جب ضمانت اور مطبع وغیرہ ضبط ہو گیا اور اسے نظر بند کر دیا گیا تو اسے قدر عافیت معلوم : ہوئی اور وہ اس گورنمنٹ کے پیچھے پڑنا چھوڑ کر خدائی گورنمنٹ کے پڑ گیا اور دنیاوی گورنمنٹ کے مقابلہ میں ناکامی اور زک اٹھا کر خدائی گورنمنٹ کے مقابلہ کیلئے کھڑا ہو گیا لیکن کیا وہ نادان نہیں جانتا کہ دنیاوی گورنمنٹ کی نسبت خدائی گورنمنٹ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔مشہور ہے کہ خدا کی لاٹھی نظر نہیں آتی مگر یہ غلط ہے۔ایسی نظر آتی ہے کہ صرف وہی نہیں دیکھتا جس کے اوپر پڑتی ہے بلکہ اس کے دوسرے ساتھی بھی اس کا مزا چکھتے ہیں۔پس وہ تسلی رکھے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔۔یہ گماں مت کر کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادھار خدا کسی کا کچھ نہیں رکھتا۔اسے سب کچھ واپس مل جائے گا۔پھر صوفیاء کا گروہ ہے۔اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہمارے سلسلہ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں ہم زمام دین ہاتھوں میں رکھنے والے کیوں ان سے پیچھے رہ