انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 77

ام جلد ۴ LL قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام کہ وہ تم سے لمبی نمازیں پڑھیں گے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی جماعت ہے جو اس زمانہ میں ہوئی ہے۔جب سب کے سب مسلمان نمازیں پڑھا کرتے تھے مگر آج کل تو اکثر بے نماز ہیں۔غرض کبھی آپ لوگوں نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود کی بیعت میں آکر اکثر لوگ دیندار اور شریعت کے احکام کے پابند ہو جاتے ہیں۔پھر یہ بھی سوچا ہے کہ جب آپ لوگ امور دین سے بے تعلق ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتے تو کیونکر ممکن ہے کہ جو دیندار جماعت ہے وہ تو جھوٹی ہے اور باطل پر ہے لیکن جو لوگ دین سے بالکل غافل ہیں وہ حق پر ہیں اور اسلام کے خیر خواہ ہیں۔پھر کیا آپ نے اس پر بھی غور کیا کہ جب عملاً آپ لوگ اسلام کی تعلیم سے متنفر ہیں تو کیا اس قسم کے جلسوں کا باعث اور محرک اسلام کی محبت ہو سکتی ہے ؟ جن لوگوں کے دل میں اسلام کی محبت ہو وہ نماز کو جو عبادات میں سے پہلا رکن ہے کیو نکر ترک کر سکتے ہیں اور جبکہ احکام دین کی پابندی سے یہاں کے اکثر باشندے قاصر ہیں تو پھر کیا صاف یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس سارے جوش و خروش کا باعث دین اور اسلام اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کی خواہش نہیں بلکہ نفسانی جوش یا ضد ہے اور اگر یہ بات درست ہے اور واقعات اسی کو ثابت کرتے ہیں تو پھر سوچو کہ اس قدر روپیہ یا وقت صرف کر کے آپ لوگوں کے نے حاصل کیا کیا؟ یہی نہیں کہ روپیہ خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیا ؟ اور یہ بات خوشی کی نہیں بلکہ رنج کی ہے۔اسی طرح آپ لوگ اس امر پر بھی غور کریں کہ کیا آپ لوگوں نے اس جلسہ کے کرنے میں اعتدال اور انصاف سے کام لیا؟ اگر نہیں تو دین کے ساتھ آپ نے نیک اخلاق کو بھی خیر باد کہہ دیا۔سب سے پہلے تو آپ لوگ اپنے اشتہار کو دیکھیں اس میں آپ نے اس شخص کا نام جو لاکھوں آدمیوں کا پیشوا ہے اور بڑے بڑے رئیس جس کی غلامی کا فخر رکھتے ہیں اور جس کے باپ اور دادا کی آپ لوگ رعایا رہے ہیں اور اس وقت بھی آپ میں سے بہت سے اس کے خاندان کے مزارع اور موروثی ہیں اور بعض اس جلسہ کے منتظمین میں سے ایسے ہیں کہ ان کے باپ دادا کا خون اور پوست ان صلہ جات اور صدقات سے بنا ہے جو اس کے والد اور دارا سے ان کو حاصل ہوتے رہتے تھے اور جو اپنی حاجت روائی کے لئے ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے رہتے تھے اور باقی بھی قریباً سب کے سب ایسے ہیں کہ کسی نہ کسی رنگ میں اس کے اور اس کے بزرگوں کے زیر منت و احسان ہیں ، نہایت بے ادبی اور گستاخی سے لیا ہے۔مذہب اور