انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 60

انوار العلوم جلدم 4۔روحانی ترقی کے لئے خدا تعالی سامان کیا کرتا تھا اسی طرح اب بھی کرے۔ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے قرآن کے بعد کوئی شریعت نہیں آسکتی لیکن اب چونکہ اس نے ایک کامل اور مکمل کتاب بھیج دی ہے اس لئے یہ ضروری نہ تھا کہ اس کے بعد کوئی اور کتاب بھی نازل کرے۔دیکھئے ایک ڈاکٹر کسی مریض کو نسخہ دے اور پھر اس میں کوئی نقص دیکھے یا مریض کے مناسب حال نہ ہو تو اس کو بدل دے گا اور اس کی بجائے اور تجویز کرے گا لیکن اگر وہ نسخہ کامل ہو اور اس سے بیمار کو صحت بھی حاصل ہو تو پھر اس کو تبدیل نہیں کرے گا بلکہ بڑے زور سے تاکید کرے گا کہ اسے اچھی طرح استعمال کیا جائے۔قرآن کریم سے پہلے جو کتابیں آئیں وہ چونکہ سارے جہان کے لئے نہ تھیں اور نہ ہی کو ہمیشہ کے لئے تھیں بلکہ وقتی اور قومی طور پر آئی تھیں اس لئے ان کے بعد اور کتابیں بھی وقتاً فوقتا نازل ہوتی رہیں لیکن جب ایک کامل کتاب سارے جہانوں کے لئے اور ہمیشہ کے لئے نازل ہو گئی تو پھر کسی اور کتاب کے نازل کرنے کی ضرورت نہ رہی۔پس جہاں رب ال ب العلمین کی صفت سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہر زمانہ میں ایسے انسان آتے رہے ہیں جو لوگوں کی روحانی اصلاح کرتے تھے وہاں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اب بھی دنیا کی اصلاح کے لئے اس قسم کے آدمی آتے رہنے چاہئیں اور جو لوگ روحانی ترقی کے لئے کوشش کریں ان کی ترقی کے لئے دروازے کھلے رہنے چاہئیں کو اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة : (۴) کہ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا کی خبر کے ماتحت آئندہ کے لئے کسی شریعت جدیدہ کا دروازہ بند مانا جادے گا۔خدا کا۔کا اپنے بندوں سے کلام کرنا مگر ضروری ہے کہ ایسے انسان ہوتے رہیں جو خدا تعالی کی روحانی ربوبیت کے سامان پیدا کرنے کا ثبوت ہوں ورنہ جس طرح یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہندوستان کے لوگوں کی پرورش کے تو سامان پیدا کئے تھے مگر ایران کے رہنے والوں کو یونہی چھوڑ دیا تھا۔اسی طرح یہ بھی قابل قبول نہیں کہ آج سے ہزار دو ہزار سال پہلے تو خدا تعالیٰ انسانوں کی روحانیت کے سامان پیدا کر تا تھا مگر آج نہیں کرتا۔پس خدا تعالی کا رب العالمین ہونا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی زمانہ میں بھی اپنے بندوں سے کلام کرنا بند نہیں کرتا لیکن اگر یہ مانا جائے کہ کبھی کلام الہی کا سلسلہ بند بھی ہو جاتا ہے تو یہ بھی مانا پڑے گا کہ ہم سے پہلے لوگوں کا جو خدا تھا وہ ہمارا خدا نہیں