انوارالعلوم (جلد 4) — Page 39
العلوم جلد من ۳۹ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے بہنوئی بھی چھپ گیا صرف بہن نے سامنے آکر دروازہ کھولا حضرت عمر نے پوچھا۔بتاؤ کیا کر رہے تھے اور کون شخص تھا جو کچھ پڑھ رہا تھا۔انہوں نے ڈر کے مارے ٹالنا چاہا۔حضرت عمر نے کہا جو پڑھ رہے تھے مجھے سناؤ۔ان کی بہن نے کہا آپ اس کی بے ادبی کریں گے۔اس لئے خواہ ہمیں جان سے مار دیں ہم نہیں سنائیں گے۔انہوں نے کہا نہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ بے ادبی نہیں کروں گا۔اس پر انہوں نے قرآن کریم سنایا۔جسے سن کر حضرت عمر رو پڑے اور دوڑے دوڑے رسول کریم کے پاس گئے تلوار ہاتھ میں ہی تھی۔رسول کریم ﷺ نے انہیں دیکھ کر کہا عمر یہ بات کب تک رہے گی۔یہ سن کر وہ رو پڑے اور کہا میں نکلا تو آپ کے مارنے کے لئے تھا لیکن خود شکار ہو گیا ہوں۔تو پہلے یہ حالت تھی جس سے انہوں نے ترقی کی۔پھر یہی صحابہ تھے جو پہلے شراب پیا کرتے تھے۔آپس میں لڑا کرتے تھے اور کئی قسم کی کمزوریاں ان میں پائی جاتی تھیں لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو قبول کیا اور دین کے لئے ہمت اور کوشش سے کام لیا تو نہ صرف خود ہی اعلیٰ درجے پر پہنچ گئے بلکہ دوسروں کو بھی اعلیٰ مقام پر پہنچانے کا باعث ہو گئے۔وہ پیدا ہی صحابی نہیں ہوئے تھے بلکہ اسی طرح کے تھے جس طرح کے اور تھے مگر انہوں نے عمل کیا اور ہمت دکھائی تو صحابی ہو گئے۔آج بھی اگر ہم ایسا ہی کریں تو صحابی بن سکتے ہیں۔یہ شیطان کا جال اور پھندا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی انسان دین کی راہ میں کوشش کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے آگے روک ڈال دیتا ہے کہ تم کیا کر سکتے ہو اور اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہوتی ہے کہ جب مکھی زور کر کے اسے توڑ دیتی ہے تو وہ اور تن دیتی ہے۔شیطان بھی اسی طرح بندوں کے ارد گرد پھرتا رہتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ میرے بند ٹوٹنے لگے ہیں تو اور باندھ دیتا ہے۔ان بندوں میں سے ایک یہ بھی بند ہے کہ جب کوئی عورت یا مرد نیک کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ کیا ہم فلاں بن جائیں گے۔ایسا تو نہیں ہو سکتا اس لئے کرنا ہی نہیں چاہئے۔حالانکہ فلاں بھی کوشش کر کے ایسا بن گیا تھا پھر جب یہ کوشش کرے گا تو کیوں نہ ویسا ہی بن جائے گا۔تو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت صرف نبی کی بیوی ہونا فضیلت کی وجہ نہیں عائشہ وغیرہ تو نبی کی بیویاں تھیں۔اس کی لئے انہوں نے دین کی خدمت کی۔ہم کیا کر سکتی ہیں۔اگر انہوں نے نبی کی بیویاں ہونے کی وجہ سے دین کی خدمت کی تو کیا حضرت نوح کی بیوی نبی کی بیوی نہ تھی یا حضرت لوط کی بیوی نبی عه تاريخ الخميس مصنفہ شیخ حسین بن محمد بن الحسن الديار بكری جلد ا صفحه ۲۹۵ مطبوعہ بیروت