انوارالعلوم (جلد 4) — Page 629
العلوم جلد ۶۲۹ تقدیرانی اور جو ان کو نہیں دیکھا یقینی ہے کہ وہ خدا کو بھی نہ دیکھ سکے اور جو خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھتا وہ کافر ہے۔یہ مقام حال کے طور پر تو اور لوگوں پر بھی آتا ہے مگر مقام کے طور پر کسی نبی کے بغیر اور کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔یہ سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے اور اس میں تقدیر ایسے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے کہ اس کو سمجھتا ہر انسان کا کام نہیں ہے۔ہاں اہل علم لوگ شناخت کر لیتے ہیں۔اس مقام پر پہنچے ہوئے انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ خدا ہی کا رنگ اس میں آجاتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب تقدیر حقیقی طور پر ظاہر ہوتی ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود خدا تعالٰی کے وجود میں مخفی ہو گیا تھا۔پس آپ کا ہر ایک فعل در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔لیکن تم جو کچھ کرتے ہو یہ خدا تم سے نہیں کراتا کیونکہ تم خدا کے ہاتھ نہیں ہو۔اگر کوئی بد نظری کرتا ہے تو خود کرتا ہے اور چوری کرتا ہے تو خود کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس سے ایسا نہیں کراتا۔خدا تعالیٰ تو ان سے کام کروایا کرتا ہے جو اس کی صفات کے مظہر ہو جاتے ہیں اور وہ جن کا ہاتھ ہو جاتا یا پاؤں ہو جاتا ہے یا آنکھ ہو جاتا ہے یا کان ہو جاتا ہے یا جو اس کے ہاتھ ہو جاتے ہیں یا پاؤں ہو جاتے ہیں یا آنکھ ہو جاتے ہیں یا کان ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی بشریت کی غلطی پر بھی اگر کوئی معترض ہو تو سزا پاتا ہے اور یہ تقدیر الہی کی وہ حد ہے جس سے انسان کو تعلق ہے۔اب میں تقدیر پر ایمان لانے کے فوائد بھی بیان کر چکا ہوں اور ان سے معلوم ہو کہ یہ مسئلہ روحانیت کو کامل کرنے کے لئے کس قدر ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ماننے کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے۔یہ ہے وہ مسئلہ تقدیر جس سے عام لوگ ٹھو کر کھاتے ہیں۔اللہ تعالی توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اس کو صحیح طور پر سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔آمین۔- ایک صاحب سوال کرتے ہیں کہ خداتعالی کی حیثیت ممتحن ہی کی نہیں بلکہ رحیم و کریم کی ہے ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ٹھیک ہے۔مگر اس حیثیت کا ظہور امتحان لینے کے بعد نمبر د یتے وقت ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ پرچہ لکھتے وقت بتاتا جائے کہ اس سوال کا جواب یہ لکھو اوراس کا یہ اس موقع پر کسی صاحب نے سوال کیا کہ قدر خیر و شرہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟ حضور نے فرمایا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ خیر کی جزاء بھی اللہ کی طرف سے ملتی ہے اور بدی کی سزا بھی خدا کی طرف سے۔اس پر ایمان لانے کا یہ مقصد ہے کہ انسان گندم از کی گندم بردید جو ز جو " کے مسئلہ پر ایمان رکھے اور خدا اپر ظلم کا الزام نہ لگا ہے۔(منہ) ་་