انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 627

ر العلوم جلد ۶۲۷ تقدیرانی کی میرا اپنے بندوں کو کرا دیتا ہے۔گو بعض نادان اس حالت سے دھوکا کھا کر عجب اور تکبر کی مرض میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جس پر صحابہ پہنچے تھے جن کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ (بخاری کتاب التفسير سورة الممتحنة باب لا تتخذوا عدوى وعدوکم اولیاء کہ تم اب جو چاہو کرو۔ناران اعتراض کرتے ہیں کہ کیا اگر وہ چوری بھی کرتے تو ان کے لئے جائز تھا ؟ مگر وہ نہیں جانتے کہ خدا جس کے ہاتھ ہو جائے وہ چوری کر ہی کس طرح سکتا ہے۔دیکھو ٹائپ کی مشق کرنے والے اتنی مشق کر لیتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے چلاتے جاتے ہیں اور غلطی نہیں کرتے۔اسی طرح ایک زمیندار خاص طریق سے زمین میں دانہ ڈالتا ہے اور جس کی مشق نہ ہو وہ اس طرح دانہ نہیں ڈال سکتا۔اسی طرح ایک جلد ساز کو مشق ہوتی ہے اور وہ سوا ایک خاص طرز سے مارتا ہے۔پس جس طرح ان کاموں میں مشق کرنے والے غلطی نہیں کر سکتے۔اس طرح تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی مشق کرتے کرتے جب انسان اس حد تک ترقی کر جاتا ہے کہ خدا ان کی آنکھ۔کان۔ہاتھ اور پاؤں ہو جاتا ہے وہ غلطی نہیں کر سکتے۔اندھے بھی اپنے گھروں میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک اندھی عورت رہتی تھی اس کی جہاں چیزیں ہوتیں سیدھی وہیں جاتی اور جاکر ان کو اٹھا لیتی۔نا واقف لوگ بعض دفعہ ایسے اندھوں کو دیکھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ یہ فریب کرتے ہیں۔حالانکہ ان کو مشق سے یہ درجہ حاصل ہوا ہوتا ہے۔ورنہ وہ فی الحقیقت اندھے ہوتے ہیں۔پس جب اندھا بھی مشق سے اس درجہ کو حاصل کر سکتا ہے تو کیا عقل کا سوجا کھا ترقی کرتے کرتے اس مقام پر نہیں پہنچ سکتا کہ اس کا ہاتھ ہمیشہ صحیح جگہ پر ہی پڑے اور وہ غلطی سے محفوظ ہو جائے۔اور خصوصاً جب کہ اللہ تعالی کسی کے ہاتھ پاؤں ہو جائے تو پھر تو اس امر میں کوئی تعجب کی بات ہی نہیں رہتی۔یہ درجہ بھی تقدیر پر ایمان کا نتیجہ ہے ورنہ اگر تقدیر ہی نہ ہوتی تو وہ تقدیر خاص سے کس طرح مدد لیتے ؟ پس تقدیر خاص جاری کرنے کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ انسان عبودیت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ خدا تعالیٰ میں اور اس میں وحدت پیدا ہو جائے اور وہ گو عبد ہی رہے مگر اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہو جائے۔مگر یہی مقام نہیں بلکہ اس سے آگے ایک ایسا مقام ہے کہ جس کو دیکھ کر انسان کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں اور وہ نبوت کا مقام ہے۔کہتے ہیں جب خدا تعالیٰ انسان کے ہاتھ پاؤں اور کان ہو گیا تو پھر اور کیا درجہ ہو سکتا ہے۔مگر یہ غلط ہے اس سے اوپر اور درجہ ہے اور وہ یہ کہ پہلے تو خدا بندے کا ہاتھ پاؤں اور کان ہوا تھا۔