انوارالعلوم (جلد 4) — Page 625
العلوم جلدم ۶۲۵ تقدیرانی اس کے پاس ہو۔جب اسے بھوک لگے درخت سے پھل جھاڑے۔گو وہ اس کے لئے کوشش تو خود کرتا ہے مگر بانس اس کو مل جاتا ہے۔اس مقام پر پہنچا ہوا انسان دنیا کی اصلاح اور اس کو عبودیت کی طرف لانے میں کوشاں ہوتا ہے۔مگر ساتھ ہی وہ جانتا ہے کہ میں عبد ہو کر یہ کام نہیں کر سکتا اس لئے اپنے آقا کو ہی لکھنا چاہئے۔پس جب وہ ضرورت سمجھتا ہے اپنے آقا کو لکھتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہے کہ فلاں کام میں مدد دیجئے اور وہاں سے مدد آجاتی ہے۔اس وقت تدبیر اس کی نظر میں حقیر ہوتی ہے۔اور اپنے آپ کو عبد سمجھتا ہے۔مگر اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عبد اپنے آقا کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔پھر اس سے آگے انسان چلتا ہے۔مگر جوں جوں انسان آگے چلتا ہے اسی عبد کے مختلف مقامات پر پہنچتا ہے اس سے اوپر اور کوئی درجہ نہیں۔بلکہ بڑے سے بڑا درجہ بھی عہد کے درجہ کی کوئی شاخ ہی ہے اس سے علیحدہ نہیں۔حتی کہ رسول کریم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ عبد ہی کہتا ہے اور سب واقفانِ اسرارِ شریعت کا اتفاق ہے کہ سب سے بڑا درجہ روحانی ترقی میں عبد ہونے کا ہی ہے۔اور وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ اس سے آگے ابن اللہ کا درجہ ہے۔سب سے بڑا عبودیت کا ہی درجہ ہے اور مقام دعا بھی اسی درجہ کی ایک اعلیٰ شاخ ہے۔غرض مقام دعا پر جب انسان پہنچتا ہے تو جب کوئی روک اس کے راستہ میں آتی ہے وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور میں گر جاتا ہے اور اس کی مدد سے اس روک کو دور کرتا ہے۔جنگ احزاب کا واقعہ ہے کہ خندق کھودتے ہوئے صحابہ ایک پتھر کو کاٹنا چاہتے تھے مگر وہ نہ کٹتا تھا۔اس پر رسول کریم ﷺ کے پاس گئے جن کے وہ عبد تو نہ تھے مگر بوجہ اس درجہ کے جو اللہ تعالی نے آپ کو دیا تھا آپ کے غلاموں میں شمار ہونا فخر سمجھتے تھے۔آپ سے دریافت کیا کہ اب ہم کیا کریں؟ آپ نے فرمایا۔لاؤ مجھے کدال دو۔اور کدال لے کر آپ اس جگہ گئے اور اسے اٹھا کر زور سے پتھر پر مارا تو اس سے آگ نکلی۔آپ نے کہا اللہ اکبر۔صحابہ نے بھی کہا۔اللہ اکبر۔دوسری بار مارا تو پھر آگ نکلی اور آپ نے کہا اللہ اکبر۔صحابہ نے بھی کہا اللہ اکبر۔پھر تیسری بار مارا۔پھر آگ نکلی اور آپ نے اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی کہا۔اللہ اکبر۔تیسری بار مارنے سے پتھر ٹوٹ گیا۔اس موقع پر صحابہ رسول کریم کی اتباع میں اللہ اکبر کہتے رہے ورنہ انہیں پتہ نہ تھا کہ آپ کیوں اللہ اکبر کہتے ہیں؟ اس لئے انہوں نے بعد میں رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ اللہ اکبر کہنے کی وجہ کیا تھی؟ آپ