انوارالعلوم (جلد 4) — Page 37
العلوم جلد ۳۷ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے عورتوں کے لئے ضروری ہے۔رسول کریم ﷺ کی بیویاں مسائل میں غلطی کرنے والے عورتیں کیا کرتی رہی ہیں مردوں کو ڈانٹ دیتی تھیں اور حضرت عائشہ قرآن کریم کا درس دیا کرتی تھیں۔جسے مرد بھی آکر سنا کرتے تھے۔پھر بعض عورتیں ایسی بھی گزری ہیں جو درمیان میں پردہ لٹکا کر مردوں کو پڑھاتی رہیں۔مگر آج یہ مصیبت ہے کہ عورتیں خود ان پڑھ ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہم کیا کر سکتی ہیں۔کچھ بھی نہیں حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے۔پہلے جو عورتیں پڑھی ہوئی نہ بھی تھیں ان میں بھی یہ خیال نہ پایا جاتا تھا۔اب بھی دیکھا گیا ہے کہ جن عورتوں کو دین موجودہ زمانہ کی ایک عورت کی مثال سے محبت اور پیار ہے ان میں بڑا اخلاص پایا جاتا ہے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک عورت آئی اور آپ کے سامنے آکر بہت روئی کہ میرا بیٹا عیسائی ہو گیا ہے آپ دعا کریں کہ وہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے۔پھر خواہ مرہی جائے۔لڑکا عیسائیوں کا سکھایا پڑھایا تھا۔باوجود بخار چڑھے ہونے کے بھاگ گیا اس کی ماں بھی اس کے پیچھے بھاگی اور پھر پکڑ کر لے آئی۔حضرت مسیح موعود نے اسے سمجھایا اور کچھ دن کے بعد اسے سمجھ آگئی اور مسلمان ہو گیا۔مسلمان ہونے کے دوسرے تیسرے دن اس کی جان نکل گئی اور اس پر ماں نے کچھ غم نہ کیا۔تو اب بھی ایسی عورتیں ہیں گو شاذ ہیں۔جو ایمان کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتیں۔مگر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر خاوند عیسائی ہو جاوے تو بیوی بھی عیسائی ہو جاتی ہے اور جو مذہب اس کے خاوند کا ہو وہی اس کا ہوتا ہے۔مگر ایسی بھی عورتیں ہیں جو جان دینا تو پسند کرتی ہیں مگر اسلام چھوڑنا گوارا نہیں کرتیں لیکن ایسی کون عورتیں ہوتی ہیں وہی جو مذہب کو سمجھ کر قبول کرتی ہیں اور اس سے پوری پوری واقفیت پیدا کرتی ہیں۔پس سب سے ضروری بات یہ ہے کہ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے عورتیں مذہب سے واقف ہوں۔مذہب سے ان کا تعلق ہو۔مذہب سے انہیں محبت ہو۔مذہب سے انہیں پیار ہو۔جب ان میں یہ بات پیدا ہو جائے گی تو وہ خود بخود اس پر عمل کریں گی اور دوسری عورتوں کے لئے نمونہ بن کر دکھا ئیں گی اور ان میں اشاعت اسلام کا ذریعہ بنیں گی۔ہاں انہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جس