انوارالعلوم (جلد 4) — Page 603
ر العلوم جلد ۴ ۶۰۳ تقدیر الهی اس کے ایک بندہ نے دعا کرنی تھی اور خدا تعالیٰ کے رحم نے اس وقت اس بادل کو وہاں پہنچانا ہے تھا۔تو اس قسم کے سب اعتراض باطل ہیں کیونکہ کسی بات کا سبب پہلے ہونے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کا بلاواسطہ محرک وہ امر نہ تھا جو پیچھے ہوا یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ اس کے لئے نہیں ہوا۔کیا ایک مہمان کے آنے سے پہلے وہ چیزیں مہیا نہیں کی جاتیں جو دور سے منگوانی پڑتی ہیں۔پھر کیا ان چیزوں کا اس مہمان کی آمد سے پہلے منگوانا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر نہیں منگوائی گئیں۔خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے۔اسے معلوم تھا کہ فلاں وقت میرا بندہ بادل کے لئے دعا کرے گا اس لئے اس نے شروع پیدائش سے ایسے حکم دے چھوڑے تھے کہ اس وقت ایسے سامان پیدا ہو جاویں کہ اس بندہ کی خواہش پوری ہو جائے۔پس اس بارش کا ہونا ایک تقدیر خاص کا نتیجہ تھا جو تقدیر عام کے پردہ میں ظاہر ہوئی۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح معلوم ہوا کہ اس کی محترک تقدیر تھی۔اور اس کی وجہ عام اسباب قدرت نہ تھے۔اس بات کے معلوم کرنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا ایسے متواتر واقعات ہوتے ہیں جن کی نظیر دنیا کے عام قاعدہ میں نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ ہے انہیں اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔اگر یہ ثابت ہو جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے متعلق خاص تقدیر جاری ہوئی تھی۔مثلاً اگر دیکھیں کہ متواتر ایسا ہوا کہ دعائیں کی گئیں اور بادل آگئے تو اس کو اتفاق نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس کی کوئی وجہ قرار دینی پڑے گی۔پھر اتفاق اس کو اس لئے بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس قسم کی مثالوں میں ایک سلسلہ نظر آتا ہے۔صدیوں کے بعد صدیوں میں مختلف بزرگوں کی دعاؤں کے جواب میں ایسا معاملہ ہوتا آیا ہے۔پس اسے اتفاق نہیں کہہ سکتے۔پھر وہ جو ایسی باتوں کو اتفاق کہتے ہیں وہ خود لکھتے ہیں کہ اتفاق کوئی چیز نہیں ہے۔ہر ایک چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔اس مسئلہ کے بیان کرنے کا یہ وقت نہیں ورنہ میں بتاتا کہ وہ اتفاق کے متعلق کیا سمجھتے ہیں۔بہر حال جب وہ دنیا کے کسی معاملہ کے متعلق اتفاق کے قائل نہیں تو پھر اپنے عقیدہ کے خلاف جو بات ہو اسے اتفاق کیوں کہتے ہیں۔غرض یہ بات خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تقدیر جاری ہے گو سبب موجود ہوتے ہیں مگر ان کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تقدیر نہیں ہے۔اب میں نہایت افسوس سے ان نقصانات کا مسئلہ تقدیر کے غلط سمجھنے کے نقصان اظہار کرتا ہوں جو لوگ اس مسئلہ کو نہ سمجھنے کی *