انوارالعلوم (جلد 4) — Page 600
وم جلد " ۶۰ • جدھر اس کی مرضی ہے لے جائے مگر دراصل وہ خود چونکہ اس کا ہم خیال ہے اور آپ شراب کا شیدائی ہے اس کے ساتھ ساتھ جاتا ہے اور اپنے مزے کا خیال کر رہا ہے۔صاحب مثنوی نے اس تعلق کو ایک لطیف مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں ایک چوہا تھا۔اس نے ایک اونٹ کی رسی پکڑ لی اور اپنے پیچھے پیچھے چلانے لگ گیا اور اس پر اس نے سمجھا کہ مجھے بڑی طاقت حاصل ہو گئی ہے کہ اونٹ جیسے قد آور جانور کو اپنے پیچھے چلا رہا ہوں اور اس پر وہ پھولا نہ سماتا تھا کہ چلتے چلتے راستہ میں دریا آگیا۔اونٹ چونکہ پانی میں چلنے سے خوش نہیں ہو تا اس لئے جب چوہا پانی کی طرف چلا تو وہ ٹھر گیا۔چوہے نے اس کے کھینچنے میں بڑا زور لگایا لیکن اونٹ نے اس کی ایک نہ مانی چوہے نے اس سے پوچھا۔اے اونٹ اس کا کیا سبب ہے کہ اس وقت تک تو جس طرح میں تجھ سے کہتا تھا تو میری بات مانتا تھا مگر اب نا فرمان ہو گیا ہے۔اس نے کہا کہ جب تک میری مرضی تھی میں تمہارے پیچھے پیچھے چلا آیا۔اب نہیں ہے اس لئے نہیں چلوں گا۔غرض جس وقت چوہا اونٹ کو لے جا رہا تھا اس وقت گو دیکھنے میں یہ نظر آ رہا ہو کہ چوہے کے پیچھے اونٹ چل رہا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ چوہا جدھر جا رہا تھا ادھر ہی اونٹ بھی اپنی مرضی سے جا رہا تھا۔اسی طرح گو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر شیطان کا قبضہ ہے مگر اصل میں اس کا قبضہ نہیں ہو تا بلکہ انسان اپنی باگ اس کے ہاتھ میں دے کر خود اپنی مرضی سے اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔چنانچہ بعض انسان جب اس سے اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں تو سختی سے اس کی اتباع سے انکار کر دیتے ہیں اور وہ ڈر کر ان کے پاس سے بھاگ جاتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ قرآن میں آتا ہے۔وَمَا تَشَاءُ وَنَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ (الكور : ۳۰ یعنی تم نہیں چاہتے مگر وہی جو خدا چاہتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اعمال اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں جو سائل صاحب کے ذہن میں آئے ہیں اس آیت کا ما سبق یہ ہے۔فَايْنَ تَذْهَبُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرُ لِلْعَلَمِيْنَ ، لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ ، وَمَا تَشَاءُونَ إِلا أَنْ يَشَاء اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ (التکویر : ۲۷ تا۳۰) خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔تم کہاں جاتے ہو۔یہ قرآن کریم نہیں مگر خدا تعالیٰ کی طرف۔سے