انوارالعلوم (جلد 4) — Page 596
انوار العلوم جلد ۴ ۵۹۶ تقدیرانی علیم ہونا تو ثابت ہو جاتا مگر قادر ہونا ثابت نہ ہوتا۔پس ایسی تقدیر کا ظاہر کرنا جو موجودہ حالات کے مطابق ہے خدا تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کے لئے ضروری ہے۔اس کے بغیر انسان پر اس کی قدرت کا کامل اظہار نہیں ہو سکتا۔یہی ایک ذریعہ انسان پر قدرت الہی کے اظہار کا ہے کہ اس کے روحانی حالات پر خدا تعالٰی کا ایک حکم جاری ہو اور اگر وہ حالات قائم رہیں تو اس کے ساتھ اس اظہار کے مطابق معاملہ ہو اور اگر بدل جاویں تو اس کے ساتھ معاملہ بھی بدل جاوے۔اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ لوگوں کو ایسی پیشگوئیوں سے ابتلاء آجاتا ہے یہی بہتر تھا کہ خدا تعالیٰ اس قسم کی اخبار نہ دیا کرتا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریر اور مفسد کی شرارت سے ڈر کر اللہ تعالیٰ حق کو نہیں چھوڑ سکتا۔وہ بات جس سے اللہ تعالیٰ کے رحم کا اظہار اور اس کی قدرت کا ثبوت ملتا ہے اور اس کے فاعل بالا رادہ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے وہ اس کو شریروں اور مفسدوں کے اغراض کی وجہ سے کیونکر چھوڑ سکتا تھا۔اس قسم کی اخبار دینے میں سوائے ان لوگوں کے شور کے جن کی نیت مخالفت پر پختہ ہو چکی ہوتی ہے اور کیا چیز روک ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْايْتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ (بنی اسرائیل:۲۰) یعنی کیا ہم اس وجہ سے کہ پہلے زمانوں میں شریر لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کر دی تھی آیات کا بھیجنا بند کر دیں گے؟ پس یہ اللہ تعالی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ بات جو اس کے رحم اور اس کی قدرت کا اظہار سمجھدار لوگوں پر کرتی ہے اس کو اس لئے ترک کر دے کہ شریر کو اس پر ٹھوکر لگتی ہے۔شریر کو ٹھو کر کیا لگنی ہے وہ تو پہلے ہی سے ٹھوکر کھا رہا ہوتا ہے۔پس اس کے خیال سے مؤمنوں کو فائدہ سے کیوں محروم رکھا جائے؟ میں اس جگہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے جو مسلمان کہلاتے ہوئے ایسی پیشگوئیوں پر معترض ہوتے ہیں خود اسلام میں سے بعض ایسی مثالیں بیان کر دیتا ہوں جن میں خدا تعالیٰ نے آخری امر کو بیان نہیں فرمایا بلکہ تدریجاً اپنے منشاء کا اظہار کیا ہے یا یہ کہ ہر ایک حالت کے مطابق اس کا انجام بتایا ہے۔ایک مثال اس کی تو وہ عظیم الشان واقعہ ہے جو مسلمانوں میں معراج کے نام سے مشہور ہے اور جس کا تعلق اسلام کی بنیاد سے ایسا ہے کہ کوئی ذی علم مسلمان۔