انوارالعلوم (جلد 4) — Page 589
انوار العلوم جلد ۴ ۵۸۹ تقدیر الهی تو گرتے۔جب گئے نہیں تو گرتے کیوں؟ اور دوسرے لوگ بھی ایسے شخص کو ملامت کریں گے کہ کیا اسے جھوٹ کہتے ہیں۔تو اپنی جان بچانے کے احسان کا بدلہ اس نا معقول طور پر دیتا ہے۔یہ تو تقدیر عام کو تقدیر عام سے بدلنے کی مثال ہے۔اور تقدیر خاص کی مثال یہ ہے کہ مثلاً وہ شخص جسے دو سرے آدمی نے کہا تھا کہ تو مرے گا ، یا گرے گا وہ اس تنبیہ کرنے والے شخص کو کہے کہ مجھے کام ضروری ہے مہربانی فرما کر کوئی مدد ہو سکے تو کرو۔اور وہ تنبیہ کرنے والا شخص کوئی بڑا تختہ لا کر گڑھے پر رکھ دے جس پر سے وہ گزر جائے۔کیا اس صورت میں بھی یہ ممکن ہے کہ اس شخص کو کوئی کہے کہ تم نے جھوٹ بولا تھا۔یہ شخص تو گڑھے پر سے سلامت گزر آیا۔اس میں کیا شک ہے کہ اگر وہ شخص اطلاع نہ دیتا تو یہ اندھیرے کی وجہ سے گڑھے میں گر کر ہلاک ہو جاتا۔اور اگر وہ مدد نہ کرتا تو یہ گڑھے پر سے کبھی پار نہ ہو سکتا۔اسی طرح کبھی اللہ تعالٰی بھی خبر دیتا ہے کہ فلاں مصیبت فلاں شخص پر آنے والی ہے اور اس سے غرض اس شخص یا اس کے رشتہ داروں کو متنبہ کرنا ہوتا ہے کہ ان کے موجودہ حالات کا نتیجہ اس طرح نکلنے والا ہے۔جب وہ ان حالات کو بدل دیتے ہیں یا حالات نہیں بدل سکتے تو خدا تعالیٰ سے عاجزانہ طور پر اس کی مدد چاہتے ہیں تو پھر وہ مصیبت بھی مل جاتی ہے۔اور کوئی عظمند انسان اس اطلاع کو جھوٹی نہیں کہہ سکتا نہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام لگا سکتا ہے۔دوسری پیشگوئی وہ ہوتی ہے جس میں تقدیر خاص کی اطلاع کسی بندے کو دے دی جاتی ہے۔مثلاً کوئی شخص ہے جس نے شرارت میں حد سے زیادہ ترقی کی ہے اور لوگ اس کے ظلموں سے تنگ آگئے ہیں اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی شرارت کی سزا اسی دنیا میں اسے دے اور ملائکہ کو حکم دیتا ہے کہ مثلاً اس کے مال و جان کو نقصان پہنچاؤ یا اس کی عزت تباہ کر دو۔اس حکم کی اطلاع کبھی وہ اپنے کسی بندے کو بھی دے دیتا ہے۔اس خبر کو سن کر وہ شریر آدمی جو اپنے دل کے کسی گوشے میں ایک چنگاری خشیت الہی کی بھی رکھتا تھا جو گناہوں کی راکھ کے نیچے دبی پڑی تھی گھبرا کر اپنی حالت پر نظر ڈالتا ہے اور اس توجہ کے زمانے میں اس چنگاری کی گرمی کو محسوس کرتا ہے اور اسے راکھ کے ڈھیر کے نیچے سے نکال کر دیکھتا ہے۔وہ چنگاری راکھ سے باہر آکر زندہ ہو جاتی ہے۔اور روشنی اور گرمی میں ترقی کرنے لگ جاتی ہے اور اسی شخص کے دل میں نئی کیفیتیں اور نئی امنگیں پیدا کرنے لگتی ہے۔اور وہ جو چند دن پہلے شریر اور مفسد تھا اپنے اندر محبت اور خشیت الہی کی گرمی محسوس کرنے لگتا ہے اور اپنے پچھلے افعال