انوارالعلوم (جلد 4) — Page 588
۵۸۸ (۲) دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان کے روحانی یا اخلاقی حالات کے ماتحت جو تقدیر خاص جاری ہونی ہو اس سے اطلاع دے دی جاتی ہے۔(۳) تقدیر مبرم یعنی اہل تقدیر سے اطلاع دی جاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں سے اول الذکر اور ثانی الذکر تو کثرت سے بدل جاتی ہیں لیکن آخری تقدیر نہیں بدلتی۔ہاں کبھی کبھی خاص حالات میں وہ بھی بدل جاتی ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ پہلی پیشگوئی کیوں اور کس طرح بدلتی ہے ؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ پیشگوئی نام ہے اظہار تقدیر کا۔یعنی جو کچھ کسی شخص کے طبعی حالات یا شرعی حالات کے حال معاملہ ہونا ہوتا ہے اسے اگر ظاہر کر دیا جائے تو اسے پیشگوئی کہتے ہیں۔اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر اب دیکھنا چاہئے کہ پہلی قسم پیشگوئی کی یہ تھی کہ کسی شخص کو اس کے طبعی حالات کا نتیجہ بتا دیا جائے۔مثلاً یہ بتا دیا جائے کہ اس وقت اس کی جسمانی صحت ایسی ہے کہ اس کا نتیجہ موت ہو گا۔اب فرض کرو کہ اس کو یہ خبرنہ دی جاتی اور وہ اپنی جسمانی صحت کا فکر کرنے لگ جاتا اور احتیاط برتنی شروع کر دیتا تو کیا اس نتیجہ سے بچ جاتا یا نہیں۔پھر اگر خدا تعالی نے اسے قبل از وقت خبر دے دی تو اس کا وہ حق جو بصورت تبدیلی حالت اس کو حاصل تھا کسی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ضرور ہے کہ اگر وہ پورے طور پر ان ذرائع کو استعمال کرے جن سے ان حالات کو جن کے بدنتائج اس کو پہنچنے والے ہیں وہ بدل سکے تو پھر وہ مصیبت سے بچ جائے اور ہلاکت سے محفوظ ہو جائے۔تقدیر عام کے ماتحت ہونے والے واقعات تقدیر خاص کے ماتحت بھی بدل جاتے ہیں۔پس کبھی وہ پیشگوئی جو تقدیر عام کے ماتحت کی گئی تھی۔تقدیر خاص سے بھی مل سکتی ہے۔مثلاً ایک شخص کو بتایا جائے کہ اس کے گھر میں کوئی موت ہونے والی ہے۔اور وہ خاص طور پر صدقہ اور دعا سے کام لے تو بالکل ممکن ہے کہ وہ موت ٹل جاوے۔اس قسم کی پیشگوئی کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی جگہ جا رہا ہو جس کا حال اسے معلوم نہ ہو اور سخت تاریکی ہو کچھ نظر نہ آتا ہو اور اس کے سامنے ایک گڑھا ہو جس میں اس کا گر جانا اگر وہ اپنے راستہ پر چلتا جائے یقینی ہو۔اور ایک واقف شخص اسے دیکھ کر کہے کہ میاں کہاں جاتے ہو گر و گے یا یہ فقرہ کہے کہ تمہاری موت آئی ہے۔اس پر وہ شخص گڑھے تک جا کر واپس آجائے اور آکر اس شخص کو کہے کہ تم بڑے جھوٹے ہو میں تو نہیں گرا اور نہیں مرا۔وہ یہی کہے گا کہ اگر تم جاتے