انوارالعلوم (جلد 4) — Page 587
۵۸۷ تقدیر الهی تغیر کے نقص کی وجہ سے بچہ بے جان رہتا ہے یا جان پڑ کر پھر رحم مادر ہی میں نکل جاتی ہے۔پس اس عقیدہ کو مان کر کہ ارواح خدا تعالٰی نے جمع کر کے رکھی ہوئی ہیں۔اس مشاہدہ کا بھی انکار کرنا پڑتا ہے اور مشاہدات کا انکار ایک عظمند انسان کے لئے بالکل ناممکن ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل حضرت صاحب کی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ضرور دیکھنی چاہئے) عام مسلمانوں کو بھی پیشگوئیوں کو سمجھنے میں ایسا ہی دھوکا لگا ہے مگر ہندوؤں کو تقدیر طبیعی اور تقدیر شرعی میں فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور مسلمانوں کو علم الہی اور تقدیر الہی میں فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے دھوکا لگا ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جس طرح تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔اسی طرح پیشگوئیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک پیشگوئیاں وہ ہوتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے ازلی علم کو ظاہر کیا جاتا ہے اور دوسری وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جن میں خدا تعالی کی قدرت کے ماتحت ایک حکم کا اظہار کیا جاتا ہے۔جو پیشگوئیاں کہ علم ازلی کے ماتحت ہوتی ہیں وہ کبھی نہیں ملتیں۔کیونکہ اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا کا علم ناقص ہو گیا۔لیکن وہ پیشگوئیاں جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کے اظہار کے لئے ہوتی ہیں وہ کبھی مل بھی جاتی ہیں اور جو پیشگوئیاں ملتی ہیں وہ وہی ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفت قدیر کے ماتحت ہوتی ہیں۔اور جو صفت علیم کے ماتحت ہوتی ہیں وہ کبھی نہیں ملتیں۔پیشگوئیاں کیوں ملتی ہیں؟ جو پینگوئیاں ملتی ہی ان کی کئی نہیں ہیں۔(۱) یہ کہ جن حالات میں سے انسان گزر رہا ہے ان کے نتیجہ سے انسان کو اطلاع دی جاتی ہے۔یعنی تقدیر عام کے ماتحت جو نتائج نکلتے ہوں ان سے اطلاع دی جاتی ہے مثلا ایک شخص ہے جو ایسی جگہ جا رہا ہے جہاں طاعون کے کیڑے ہوں۔اور اس کے جسم میں ان کو قبول کرنے کی طاقت بھی ہو اور کوئی ایسے سامان بھی نہ ہوں جن کو استعمال کر کے وہ ان کے اثر سے بچ سکتا ہو اسے خدا تعالی یہ خبر ایسے رنگ میں دے کہ وہ شخص دیکھے کہ اس کو طاعون ہو گئی ہے تا وہ اس نظارہ سے متأثر ہو کر ایسی جگہ جانے کا ارادہ چھوڑ دے جہاں طاعون ہے یا اگر ایسی جگہ موجود ہے تو ان احتیاطوں کو برتنا شروع کر دے جن سے طاعون کی روک تھام ہو سکتی ہے۔اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ طاعون سے بچ جائے گا۔اور اس کی رؤیا جھوٹی نہ کہلائے گی بلکہ بالکل سچی ہوگی۔