انوارالعلوم (جلد 4) — Page 567
العلوم جلد ۴ ۵۶۷ تقدیر الهی بڑی اور معزز جماعت کے لیڈر ہیں۔ان سے اس طرح کا سلوک فتنہ پیدا کرے گا۔پہلے پیشی پر ان کو یونہی بلوایا جاوے پھر مقدمہ کے حالات دیکھ کر آپ جو حکم چاہیں دیں۔اس پر انہی لوگوں کے مشورہ سے ایک پولیس افسر کو حضرت صاحب کے بلانے کیلئے بھیج دیا گیا اور وہ آکر اپنے ساتھ حضرت صاحب کو لے گیا۔لیکن وہی افسر جو کہتا تھا کہ ابھی تک مرزا صاحب کو سزا کیوں نہیں دی گئی خدا تعالیٰ نے اس کے دل پر ایسا تصرف کیا کہ اس کے اندر کچھ عجیب تغیر پیدا ہو گیا اور اس نے ڈائس پر کرسی بچھا کر حضرت صاحب کو اپنے ساتھ بھوایا اور جب آپ عدالت میں پہنچے تو کھڑے ہو کر اس نے مصافحہ کیا اور خاص عزت سے پیش آیا۔شاید کوئی کہہ دے کہ بعض چالاک انسان ظاہر میں اس لئے محبت سے پیش آتے ہیں کہ آخر نقصان پہنچائیں اس لئے اس نے اس طرح کیا۔لیکن آگے دیکھئے جب مقدمہ شروع ہوا تو باوجود اس کے کہ مقابلہ میں انگریز پادری تھا اور مقدمہ کوئی معمولی نہیں بلکہ قتل کا مقدمہ تھا اور وہ بھی مذہبی گواہ موجود تھے ملزم مقتر تھا مگر اس نے بیان من سنا کر کہہ دیا کہ میرا دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ مقدمہ سچا ہو۔اب بتاؤ دل پر کون حکومت کر رہا تھا وہی جس کا نام خدا ہے۔ورنہ اگر کپتان ڈگلس صاحب کا اپنا فیصلہ ہوتا تو ظاہر پر ہوتا۔مگر ظاہری تمام حالات کو خلاف پا کر بھی وہ کپتان پولیس کو کہتے ہیں کہ جاؤ اس ملزم سے پوچھو حقیقت کیا ہے ؟ وہ آکر کہتے ہیں کہ ملزم بیان دیتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ چکا ہوں وہی صحیح ہے۔اس پر بھی کپتان ڈگلس کہتے ہیں میرا دل نہیں مانتا۔پھر کپتان پولیس جاتے ہیں اور وہ پھر یہی کہتا ہے مگر ادھر یہی جواب ہے کہ دل نہیں مانتا۔اس پر کپتان پولیس کو بھی خاص خیال پیدا ہوا اور انہوں نے یہ سوال کیا کہ ملزم کو بجائے پادریوں کے پاس رکھنے کے پولیس کی حراست میں لیا جائے تاکہ سازش کا شبہ نہ رہے۔اور جب اس پر عمل کیا گیا تو ملزم فورا صاحب کے پاؤں پر گر پڑا اور اس نے سب حقیقت بیان کر دی اور بتا دیا کہ مجھے فلاں پادری سکھایا کرتے تھے اور بعض احمدیوں کے نام جن کو یہ ساتھ پھنسانا چاہتے تھے جب مجھے یاد نہ رہتے تھے تو یہ میری ہتھیلی پر پنسل سے وہ نام لکھ دیتے تھے تا عدالت میں میں ہتھیلی کو دیکھ کر اپنی یاد تازہ کرلوں۔اس طرح ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے خود ایک مجرم کے دل کو پھیر کر اس کے مونہہ سے حق کہلوا دیا اور دوسری طرف خود ڈپٹی کمشنر کے دل کو پھیر دیا۔جو پہلے مخالف تھا موافق ہو گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ حضرت صاحب بالکل بری ہیں اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ان لوگوں پر جنہوں نے آپ کے خلاف منصوبہ کیا تھا مقدمہ کر