انوارالعلوم (جلد 4) — Page 547
دم جلد ۴ ۵۴۷ تقدیرانی دیا جاتا ہے خواہ اس کا منشاء اس کام کے متعلق ہو یا نہ ہو۔مثلاً ایک آقا کا نوکر اگر کسی کو کوئی تکلیف پہنچاتا ہے تو گو آقا کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس کا نوکر کسی کو تکلیف پہنچائے لیکن بعض دفعہ آقا کو بھی کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری طرف سے ہمیں یہ تکلیف پہنچی۔اور اس طرح نو کر کے تکلیف دینے کو آقا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اس قاعدہ کے ماتحت اگر اس آیت کے معنی کئے جاویں تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ چیزیں جن کے بد استعمال سے گناہ پیدا ہوا وہ چونکہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے متعلق کہہ دیا گیا کہ گویا بدی اور نیکی اس کی طرف آئی ہے۔اور ان معنوں سے اعمال میں جبر ثابت نہیں ہوتا اور یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا کہ خدا تعالی جبرا پکڑ کر بدی کرواتا ہے بلکہ یہ کہ خدا نے انسان میں بعض طاقتیں پیدا کی ہیں جن کو برے طور پر استعمال کر کے انسان زنایا چوری کرتا ہے۔لیکن اصل معنی اس آیت کے وہی ہیں جو میں پہلے بتا چکا ہوں۔یعنی یہاں اعمال کا ذکر ہی تو نہیں بلکہ دکھ اور سکھ کا ذکر ہے۔پہلے تو اللہ تعالی منافقوں سے فرماتا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو تم کو موت پہنچ جارے گی۔یعنی خدا تعالیٰ نے تمہاری بداعمالیوں کی وجہ سے تمہارے لئے ہلاکت کی سزا تجویز کی ہے۔اب چونکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے خواہ کتنی بھی احتیاط کرو کچھ نہیں کر سکتے۔پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ سکھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور دکھ کو تیری طرف منسوب کرتے ہیں یہ ان کی نادانی ہے۔تیرا جزاء وسزا میں کیا دخل اور تعلق ہے۔سکھ اور دکھ بلحاظ نتائج کے اللہ تعالی کی طرف سے آتا ہے۔یعنی یہ اللہ تعالٰی فیصلہ فرماتا ہے کہ فلاں شخص کو فلاں عمل کے بدلہ میں فلاں سکھ یا فلاں دکھ پہنچے تیرا اس میں کیا تعلق ہے۔یہ تو خدائی طاقت ہے جو اس نے کسی بندے کے اختیار میں نہیں دی۔اور اس لئے فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوا کہ یہ اتنی ی بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔چنانچہ اگلی ہی آیت میں اس کی اور تشریح فرما دی کہ۔ما أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ - (النا: ٨٠) یعنی جو کچھ سکھ تجھے پہنچتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تیری جان کی طرف سے ہے۔اب اگر پہلی آیت کے یہ معنی لئے جاویں کہ سب اعمال خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو پھر آیت کے کچھ معنی ہی نہیں بن سکتے۔اس آیت کے معنی تب ہی ہو سکتے ہیں جب کہ پہلی آیت کے وہ معنی کئے جائیں جو میں نے کئے ہیں اور اس صورت میں اس دوسری آیت کے یہ معنی