انوارالعلوم (جلد 4) — Page 534
انوار العلوم چاند تم ۵۳۴ تقدیرانی پس اس بات کو معلوم کرنے کے لئے کہ کون سا مسئلہ حقیقتاً ایمانیات میں شامل ہے ہمیں قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔جس مسئلہ کے متعلق قرآن کریم میں معلوم ہو جائے کہ اس کا نہ ماننا کفر ہے وہ ایمانیات میں شامل ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم کی شہادت نہ ملے اس کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے متعلق جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ صرف تاکید اور زور دینے کے لئے ہیں۔اب اسی قاعدہ کے ماتحت جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ اس میں ایمان بالقدر کے متعلق کیا بیان ہوا ہے تو گو ہمیں ایمان بالقدر کے الفاظ تو اس میں نظر نہیں آتے مگر یہ پتہ ضرور چلتا ہے کہ اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی پر ایمان لانا سب سے پہلا حکم بتایا گیا ہے اور مسئلہ قدر خدا تعالٰی پر ایمان لانے کا ایک حصہ ہے۔قدر کیا ہے؟ قدر خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا نام ہے۔مثلاً جو شخص یہ مانتا ہے کہ خدا ہے اس کے لئے یہ بھی مانا ضروری ہے کہ خدا کچھ کرتا بھی ہے نہ کہ ایک بے حس و حرکت ہستی کی ہے۔تو جو صفات خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں انہی کے ماننے کا نام قدر کا ماننا ہے اس لئے ایمان باللہ میں ہی قدر پر ایمان لانا بھی آگیا۔پس رسول کریم اللہ کا ایمان بالقدر پر زور دینا کبیرہ گناہوں پر زور دینے کے مشابہ نہیں ہے بلکہ اس کے متعلق جو کچھ فرمایا ہے وہ حقیقی طور پر بھی ہے۔قرآن کریم میں گو اس مسئلہ خدا تعالیٰ کے ماننے کے لئے تقدیر کا مانا ضروری ہے کو علیحدہ علیحدہ طور پر نہیں بیان کیا گیا۔اللہ تعالٰی پر ہی ایمان لانے میں اس کو شامل کیا گیا ہے۔مگر رسول کریم نے اس کو علیحدہ کر کے بیان کر دیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو اسی وقت حقیقی طور پر مانا جاتا ہے جبکہ اس کی صفات کو بھی مانا جائے۔ورنہ یوں خدا کا مان لینا کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔یوں تو بہت سے دہریے بھی مانتے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے کہ ہم خدا کو نہیں مانتے۔ہم خدا کو تو مانتے ہیں ہاں یہ نہیں مانتے کہ وہ فرشتے نازل کرتا ہے ، نبی بھیجتا ہے ، اس کی طرف سے پیغام آتے اور کتابیں دی جاتی ہیں۔لیکن ہم یہ مانتے ہیں کہ اس کائنات کو چلانے والی ایک بڑی طاقت ہے جسے ہم قوت محرکہ کہتے ہیں۔تو دہریے بھی بظاہر خدا کے ماننے کا انکار نہیں کرتے۔مگر وہ کیسا خدا مانتے ہیں؟ ایسا کہ جس سے ان کو کوئی کام نہ پڑے۔ان کا خدا کا مانا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی نے کسی کو کہا تھا۔جو