انوارالعلوم (جلد 4) — Page 515
لم ۵۱۵ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ میں مبتلاء ہو جاتی ہیں۔مگر رسول کریم ﷺ کے دل میں یہ خیال کبھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا۔آپ کی عمر کا ایک ایک لحظہ اور ایک ایک دقیقہ اس افتراء کی تردید کرتا ہے اس بہتان کو رد کرتا ہے اور اس خیال کو دھکے دیتا ہے۔بد بخت ہے وہ انسان جو محمد رسول اللہ ا کا منبع کہلا کر ایسا خیال دل میں لاتا ہے۔اور اندھا ہے وہ آدمی جو محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو دیکھتے ہوئے پھر اس پر یقین کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی شادی پچیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ سے ہوئی تھی اور اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر ۴۰ سال کی تھی۔حضرت خدیجہ چونسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو ئیں۔اور اس وقت آنحضرت ﷺ کی عمر انچاس سال کی تھی۔مگر دوست اور دشمن شاہد ہیں کہ آپ نے حضرت خدیجہ سے ایسا برتاؤ کیا جس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔حضرت سودہ سے آپ کی شادی حضرت خدیجہ کے بعد ہوئی۔اور ان کی وفات ۵۴ مجری میں ہوئی ہے۔چونکہ ان کی عمر کا صحیح اندازہ مجھے معلوم نہیں۔میں سن وفات سے اندازہ لگاتا ہوں کہ اگر وہ نو سال کی عمر میں فوت ہوئی ہوں۔تو چوالیس سال جو وہ رسول کریم ال کے بعد زندہ رہیں۔نکال کر ان کی عمر آنحضرت اللہ کی وفات کے وقت چھپن ۵۶ سال بنتی ہے۔اب کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ وہ شخص جس نے پچاس سالہ عمر میں چونسٹھ سالہ بیوی سے نہایت وفادارانہ گزارہ کیا تھا وہ اپنی تریسٹھ سالہ عمر میں چھپن سالہ بیوی کو اس لئے طلاق دینے پر آمادہ ہو جاوے گا کہ وہ بوڑھی ہو گئی ہے۔اِنْ هَذَا إِلَّا افك مبين - ۵۶ پس اگر اس روایت میں کوئی حقیقت ہے تو حضرت سودہ کے خیال سے زیادہ وقعت اسے حاصل نہیں۔اور عورتوں میں اس قسم کے خیال پیدا ہو جانا قابل تعجب نہیں۔رسول کریم کا یہ ہرگز خیال نہیں تھا۔پس وہ مسلمان جو ایک سے زیادہ بیویاں کرتے ہیں۔ان کو اسلام کی تعلیم کے مطابق عمل کر کے دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور شہوت رانی اور نفس پرستی کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے تا مخالفین اسلام کو حرف گیری کا موقع نہ ملے۔اسلام کا وہ دوسرا حکم جس کے متعلق میں خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اور جو ان احکام میں سے ہے جن میں اسلام دوسرے مذاہب سے بالکل مختلف احکام دیتا ہے وہ سود کی ممانعت کا حکم ہے۔میں چاہتا تھا کہ اس کے متعلق تفصیل سے بیان کرتا مگر مسئله سود